کچھ لوگ دیر سے آتے ہیں، بہت کچھ سکھا جاتے ہیں

زندگی میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ بچپن سے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، کچھ اسکول میں ملتے ہیں، کچھ کام کے دوران قریب آتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے ہماری ملاقات زندگی کے کسی ایسے موڑ پر ہوتی ہے جہاں ہم نے کسی نئے انسان کی آمد کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہوتا۔ وقت گزرتا رہتا ہے، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، رشتے بنتے اور بدلتے رہتے ہیں، لیکن ان سب میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی میں ذرا دیر سے آتے ہیں اور چند لمحوں، چند مہینوں یا چند برسوں میں ہمیں وہ باتیں سمجھا جاتے ہیں جو شاید ہم برسوں میں بھی نہیں سمجھ پاتے۔

کبھی کبھی ہمیں بعد میں احساس ہوتا ہے کہ اس شخص کا ہماری زندگی میں آنا محض ایک اتفاق نہیں تھا۔ وہ آیا، ہمارے ساتھ کچھ وقت گزارا، ہماری سوچ کے کسی بند دروازے کو کھولا اور پھر شاید ہماری زندگی سے دور بھی ہو گیا۔ لیکن اس کے جانے کے بعد بھی اس کی باتیں، اس کا رویہ اور اس کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ہمارے اندر کہیں موجود رہتے ہیں۔ کچھ لوگ زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے، وہ ہمیں بدلنے کے لیے آتے ہیں۔

ہر ملاقات کا ایک مطلب ہوتا ہے

ہم اکثر لوگوں کو ان کے ساتھ گزرے ہوئے وقت سے ناپتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو شخص برسوں ہمارے ساتھ رہا، وہی ہمارے لیے سب سے اہم ہوگا، اور جو شخص چند دن یا چند مہینے ہماری زندگی کا حصہ رہا، شاید اس کی کوئی خاص اہمیت نہ ہو۔ لیکن زندگی ہمیشہ وقت کے حساب سے رشتوں کی قیمت نہیں لگاتی۔

کبھی کوئی شخص برسوں ہمارے ساتھ رہ کر بھی ہمیں نہیں سمجھ پاتا، اور کبھی کوئی شخص چند ملاقاتوں میں ہماری وہ بات سمجھ لیتا ہے جو ہم نے کبھی کسی کے سامنے کہی ہی نہیں ہوتی۔

کبھی کوئی اجنبی ہمیں ایک ایسی بات کہہ دیتا ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ کبھی کسی کی خاموشی ہمیں اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کبھی کوئی شخص ہمیں پہلی بار یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں خود کو کتنا پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ ایسے لوگ ہماری زندگی میں شاید دیر سے آتے ہیں، لیکن ان کا اثر بہت دیر تک رہتا ہے۔

کچھ لوگ اس وقت آتے ہیں جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے

زندگی کا عجیب معاملہ ہے کہ انسان کو اکثر وہ چیز اسی وقت ملتی ہے جب وہ اس کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ کبھی ہم بہت تھکے ہوئے ہوتے ہیں اور کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جس کے سامنے دل ہلکا کیا جا سکتا ہے۔ کبھی ہم لوگوں سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور کوئی ایک شخص ہمیں دوبارہ یقین کرنا سکھا دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ شخص ہمیں کوئی بڑی مدد دے۔ کبھی صرف اس کا ہمارے ساتھ بیٹھنا کافی ہوتا ہے۔ کبھی اس کا یہ کہنا کہ “فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا” بھی دل کو سہارا دے دیتا ہے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے وقت آتے ہیں جب ہم اندر سے بہت کچھ برداشت کر رہے ہوتے ہیں مگر کسی کو بتانا نہیں چاہتے۔ وہ ہماری خاموشی کو پڑھ لیتے ہیں۔ وہ سوال کم کرتے ہیں اور سمجھ زیادہ لیتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہوتی ہے کہ ان کی موجودگی ہمیں باقی سب سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔

ہم نے بہت دیر سے جانا کہ سکون بھی ایک نعمت ہے

زندگی کے ایک حصے میں ہمیں لگتا ہے کہ خوش رہنے کے لیے بہت کچھ حاصل کرنا ضروری ہے۔ زیادہ پیسہ، بہتر گھر، اچھی گاڑی، کامیاب کاروبار، عزت، شہرت اور لوگوں کی توجہ۔ ہم ان سب کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب یہ سب مل جائے گا تو دل کو سکون مل جائے گا۔ پھر زندگی میں کوئی ایسا شخص آتا ہے جو ہمیں بغیر کسی بڑے دعوے کے یہ دکھا دیتا ہے کہ سکون چیزوں میں نہیں، بعض لوگوں کی موجودگی میں بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر خاموش رہنا اچھا لگتا ہے۔ کوئی دکھاوا نہیں کرنا پڑتا۔ اپنی کامیابیوں کی فہرست نہیں سنانی پڑتی۔ اپنی پریشانی چھپانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس جیسے ہیں، ویسے رہ سکتے ہیں۔ تب سمجھ آتا ہے کہ زندگی میں ہر رشتہ شور نہیں مانگتا۔ کچھ رشتے خاموشی میں بھی مکمل ہوتے ہیں۔

کچھ لوگ ہمیں خود سے دوبارہ ملاتے ہیں

بعض اوقات زندگی کی دوڑ میں ہم خود کو کہیں پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ دوسروں کی پسند، دوسروں کی توقعات، دوسروں کے فیصلے اور دوسروں کی خوشی اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ ہمیں اپنی ہی پسند اور اپنی ہی خوشی یاد نہیں رہتی۔ ہم ہر کسی کے لیے موجود رہتے ہیں مگر اپنے لیے وقت نہیں نکالتے۔ ہر کسی کی پریشانی سنتے ہیں مگر اپنی بات دل میں رکھتے رہتے ہیں۔ پھر کوئی ایسا شخص آتا ہے جو ہمیں ہماری اپنی پرانی شخصیت یاد دلاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ “تم پہلے جیسے کیوں نہیں رہے؟” اور شاید پہلی بار ہمیں احساس ہوتا ہے کہ واقعی ہم بہت بدل چکے ہیں۔ ہم نے دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے اپنے بہت سے شوق چھوڑ دیے۔ بہت سی باتیں دل میں دبا دیں۔ بہت سے خواب صرف اس لیے بھلا دیے کہ کسی اور کو برا نہ لگے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں آ کر ہمیں دوسروں سے نہیں، دوبارہ خود سے ملاتے ہیں۔

ہر شخص ہمیشہ ساتھ رہنے کے لیے نہیں آتا

یہ بات قبول کرنا شاید سب سے مشکل ہے کہ ہر اچھا انسان ہماری زندگی میں ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔ کچھ لوگ آتے ہیں، کچھ وقت ہمارے ساتھ چلتے ہیں اور پھر راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ کبھی حالات فاصلے پیدا کر دیتے ہیں، کبھی وقت، کبھی مصروفیات اور کبھی زندگی خود ہمیں مختلف سمتوں میں لے جاتی ہے۔ شروع میں ان کا دور ہونا بہت تکلیف دیتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر وہ شخص ہماری زندگی سے چلا گیا تو شاید سب کچھ ختم ہو گیا۔ ہم پرانی باتیں یاد کرتے ہیں، پرانی گفتگو پڑھتے ہیں اور ان جگہوں سے گزرتے ہوئے رک جاتے ہیں جہاں کبھی ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ہمیں سمجھ آتی ہے کہ کسی کا ہماری زندگی سے چلے جانا اس بات کو ختم نہیں کرتا جو اس نے ہمیں سکھایا تھا۔ وہ شخص چلا گیا، مگر اس کی دی ہوئی سمجھ ہمارے ساتھ رہ گئی۔

بعض لوگ ہمیں لوگوں کو پہچاننا سکھا جاتے ہیں

زندگی میں ہم سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ کرتے ہیں کہ ہر مسکراہٹ کو خلوص سمجھ لیتے ہیں اور ہر میٹھی بات کو محبت۔ پھر وقت ہمیں کچھ ایسے لوگوں سے ملواتا ہے جو ہماری توقعات توڑ دیتے ہیں۔ ہمیں دکھ دیتے ہیں، ہمیں نظر انداز کرتے ہیں یا مشکل وقت میں ہمیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ تجربات آسان نہیں ہوتے، مگر انہی کے بعد ہمیں لوگوں کو سمجھنے کا ہنر آتا ہے۔ پھر ہم ہر بات پر فوراً یقین نہیں کرتے۔ ہر وعدے کو حقیقت نہیں سمجھتے۔ ہر قریب آنے والے شخص کو اپنا نہیں مان لیتے۔ اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ بعض لوگ ہمیں محبت سے نہیں، اپنے رویے سے سبق دے جاتے ہیں۔ کبھی اچھے لوگ ہمیں اچھائی سکھاتے ہیں اور کبھی غلط لوگ ہمیں احتیاط سکھا جاتے ہیں۔ دونوں ہماری زندگی میں اپنا حصہ ڈال جاتے ہیں۔

کچھ لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ خاموشی بھی جواب ہوتی ہے

ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کو جواب دیتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ کسی نے کچھ کہا تو جواب دینا ہے۔ کسی نے الزام لگایا تو صفائی دینی ہے۔ کسی نے غلط سمجھا تو اسے سمجھانا ہے۔ ہم تھک جاتے ہیں مگر پھر بھی وضاحتیں دیتے رہتے ہیں۔ پھر کبھی کوئی ایسا شخص ہماری زندگی میں آتا ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہر بات کا جواب ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی خاموش رہنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ کبھی کسی بحث سے نکل جانا شکست نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کو اس کی مرضی کے مطابق سوچنے دینا ہی اپنے سکون کی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ سبق کتاب سے نہیں ملتا۔ یہ زندگی کے کسی خاص انسان سے ملتا ہے، اور اکثر بہت دیر سے ملتا ہے۔

کچھ لوگ ہماری کمزوری نہیں، ہماری اصل دیکھتے ہیں

دنیا میں اکثر لوگ ہمیں ہماری کامیابی سے پہچانتے ہیں۔ اچھا عہدہ ہو تو عزت، پیسہ ہو تو توجہ، کامیابی ہو تو تعریف۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری ناکامی میں ہمارے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ جب ہم خود کو ناکام سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ایک ناکامی پوری زندگی نہیں ہوتی۔ جب ہم اپنے بارے میں برا سوچ رہے ہوتے ہیں، وہ ہماری وہ خوبیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں جنہیں ہم خود بھول چکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے جب وہ ملتے ہیں تو ہمیں ان کی قدر فوراً نہیں ہوتی۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ تو معمول کی بات ہے۔ لیکن جب زندگی میں کئی چہرے بدل جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص کتنا خاص تھا۔

کبھی کبھی دیر سے ملنے والا شخص سب سے زیادہ اپنا لگتا ہے

یہ ضروری نہیں کہ جسے ہم بچپن سے جانتے ہیں وہی ہمارے دل کے سب سے قریب ہو۔ بعض اوقات زندگی کے بہت بعد میں ملنے والا شخص ہمیں اس طرح سمجھ لیتا ہے جیسے وہ ہمیں برسوں سے جانتا ہو۔ وہ ہماری عادتیں سمجھ لیتا ہے۔ ہماری خاموشی محسوس کر لیتا ہے۔ ہمارے لہجے سے جان لیتا ہے کہ ہم خوش ہیں یا صرف خوش ہونے کا دکھاوا کر رہے ہیں۔ اس کے سامنے ہمیں اپنے الفاظ سوچنے نہیں پڑتے۔ ایسے رشتوں میں شاید سب سے خوبصورت چیز یہی ہوتی ہے کہ وہاں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہم بس خود ہوتے ہیں۔ اور شاید انسان کو زندگی میں سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے کسی کے سامنے خود بننے کی آزادی مل جائے۔

کچھ لوگ ہمیں انتظار کا مطلب سمجھا جاتے ہیں

ہم چاہتے ہیں کہ زندگی میں ہر چیز وقت پر مل جائے۔ اچھا رشتہ، اچھی نوکری، کامیابی، خوشی، سکون، محبت، عزت، سب کچھ۔ لیکن زندگی اپنی گھڑی سے چلتی ہے۔ کبھی جس چیز کے لیے ہم برسوں انتظار کرتے ہیں وہ اس وقت ملتی ہے جب ہم اس کی امید تقریباً چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی شخص سے ملاقات بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ شاید اب کوئی ہمیں سمجھنے والا نہیں آئے گا، اور پھر اچانک کوئی ایسا شخص زندگی میں آ جاتا ہے جو ہماری اس سوچ کو بدل دیتا ہے۔ تب ہمیں سمجھ آتی ہے کہ دیر ہمیشہ انکار نہیں ہوتی۔ کبھی دیر کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ صحیح وقت ابھی آیا نہیں تھا۔

کچھ لوگ ہمیں جانے دینا سکھاتے ہیں

زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم چھوڑنا نہیں چاہتے۔ پرانے رشتے، پرانی یادیں، پرانی ناراضگیاں، کسی کی کہی ہوئی بات، کسی کا دیا ہوا دکھ۔ ہم انہیں اپنے اندر لیے پھرتے ہیں اور پھر خود ہی تھک جاتے ہیں۔ کبھی کوئی شخص ہماری زندگی میں آتا ہے اور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہر چیز کو ساتھ لے کر چلنا ضروری نہیں۔ کچھ لوگوں کو معاف کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ دوبارہ زندگی میں واپس نہ آئیں۔ کچھ یادوں کو قبول کرنا پڑتا ہے، چاہے انہیں بھلایا نہ جا سکے۔ اور کچھ رشتوں کو صرف اس لیے ختم کرنا پڑتا ہے کہ ہم خود کو مزید تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ کچھ لوگ ہمیں یہ سکھا جاتے ہیں کہ چھوڑ دینا ہمیشہ بے وفائی نہیں ہوتا۔ کبھی خود کو بچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

وقت گزرنے کے بعد اصل سبق سمجھ آتا ہے

زندگی میں کچھ باتیں فوراً سمجھ نہیں آتیں۔ جب کوئی شخص ہمیں چھوڑ کر جاتا ہے تو ہمیں صرف اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں اس کا فائدہ نظر نہیں آتا۔ ہمیں صرف اپنا نقصان دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سالوں بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو تصویر بدل چکی ہوتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر وہ شخص ہماری زندگی میں نہ آتا تو شاید ہم کبھی خود کو اس طرح نہ سمجھ پاتے۔ شاید ہم کبھی اپنی قدر نہ جان پاتے۔ شاید ہم کبھی لوگوں کو پہچاننا نہ سیکھتے۔ شاید ہم ہمیشہ اسی جگہ کھڑے رہتے جہاں وہ ہمیں چھوڑ کر گیا تھا۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ملاقاتیں ختم ہونے کے بعد اپنا اصل مطلب سمجھاتی ہیں۔

کچھ لوگ یاد بن کر بھی ساتھ رہتے ہیں

ہر وہ شخص جو ہماری زندگی سے چلا جائے، ضروری نہیں کہ وہ واقعی ہم سے دور ہو جائے۔ کچھ لوگ ہماری یادوں میں رہتے ہیں۔ ان کی کوئی بات اچانک یاد آ جاتی ہے۔ کوئی جگہ، کوئی گانا، کوئی موسم یا کوئی معمولی سی چیز ہمیں برسوں پرانی ملاقات تک لے جاتی ہے۔ ہم مسکرا دیتے ہیں۔ کبھی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ لیکن دل میں ایک عجیب سا سکون ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں کبھی ایسا شخص آیا تھا۔ شاید وہ آج ہمارے ساتھ نہیں، شاید ہم اس سے برسوں سے نہیں ملے، شاید ہماری بات بھی نہیں ہوتی، لیکن اس نے ہماری زندگی میں جو جگہ بنائی تھی وہ وقت بھی پوری طرح ختم نہیں کر سکا۔ کچھ لوگ رشتے سے نکل جاتے ہیں، مگر یاد سے نہیں نکلتے۔

ہمیں ہر کسی کو روکنے کی ضرورت نہیں

زندگی کا ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ہر جانے والے کو روکنا ضروری نہیں۔ جو جانا چاہتا ہے، اسے جانے دینا چاہیے۔ جو بدل گیا ہے، اسے بدلنے دینا چاہیے۔ جو دور ہونا چاہتا ہے، اسے دور ہونے دینا چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات ہم کسی کو روک کر صرف اپنی تکلیف بڑھاتے ہیں۔ جو شخص واقعی ہماری زندگی میں رہنا چاہتا ہے، اسے بار بار منانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور جو شخص جانا چاہتا ہے، اسے ہزار دلیلیں بھی نہیں روک سکتیں۔ شاید زندگی کی خوبصورتی یہی ہے کہ کچھ دروازے بند ہوتے ہیں تو کچھ نئے دروازے کھلنے کی جگہ بنتی ہے۔ اور کبھی کبھی انہی نئے دروازوں کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں جن کا ہمیں برسوں سے انتظار نہیں تھا۔

دیر سے آنے والے لوگ اکثر ہمیں تیار پاتے ہیں

شاید اسی لیے کچھ لوگ زندگی میں دیر سے آتے ہیں کہ اس وقت تک ہم بہت کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ ہم دھوکے کھا چکے ہوتے ہیں۔ لوگوں کو کھو چکے ہوتے ہیں۔ غلط فیصلے کر چکے ہوتے ہیں۔ کئی بار دل ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ ہم پہلے جیسے سادہ نہیں رہتے، مگر شاید پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو چکے ہوتے ہیں۔ جب ایسا شخص ہماری زندگی میں آتا ہے تو ہم اس کی قدر پہلے سے زیادہ کر پاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اچھا انسان ملنا آسان نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر تعلق میں خلوص نہیں ہوتا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سکون دینے والا شخص شور کرنے والوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی دیر سے ملنے والا انسان دراصل دیر سے نہیں آتا۔ وہ ٹھیک وقت پر آتا ہے۔

کچھ ملاقاتیں زندگی بھر کا اثر چھوڑ جاتی ہیں

ہم اپنی زندگی کے ہر دن کو یاد نہیں رکھتے، مگر کچھ دن کبھی نہیں بھولتے۔ وہ دن جب کسی سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ وہ دن جب کسی نے ہماری مشکل گھڑی میں ہمارا ہاتھ پکڑا۔ وہ دن جب کسی نے ہماری خاموشی کو سمجھا۔ وہ دن جب کسی نے ہمیں ایک ایسی بات کہی جس نے ہماری سوچ بدل دی۔ ہم شاید اس وقت نہیں جانتے کہ یہ ملاقات ہمارے لیے کتنی اہم ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتا ہے کہ وہ چند لمحے ہماری زندگی کی کہانی کا ایک اہم حصہ بن گئے تھے۔ کبھی ایک مختصر ملاقات انسان کو برسوں کی سوچ دے جاتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی بات پوری زندگی کا رویہ بدل دیتی ہے۔ اور کبھی ایک انسان چند سالوں میں وہ اثر چھوڑ جاتا ہے جو کئی لوگ پوری زندگی میں نہیں چھوڑ پاتے۔

شاید ہم بھی کسی کی زندگی میں دیر سے آئے ہوں

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں کون کیا دے کر گیا، کس نے ہمیں کیا سکھایا، کس نے ہمیں بدلا۔ لیکن کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ شاید ہم بھی کسی کی زندگی میں کسی خاص مقصد سے آئے ہوں۔ شاید کسی نے ہماری ایک بات کو دل میں رکھ لیا ہو۔ شاید ہماری معمولی سی مدد اس کے لیے بہت بڑی چیز بن گئی ہو۔ شاید ہماری کسی مسکراہٹ نے کسی اداس دن کو آسان کر دیا ہو۔ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا اور ہماری کوئی چھوٹی سی بات کسی دوسرے انسان کی زندگی میں بڑی جگہ بنا چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ہر ملاقات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری موجودگی کسی دوسرے کے لیے کتنی اہم ہے۔

آخر میں صرف یادیں رہ جاتی ہیں

زندگی بہت تیزی سے گزر جاتی ہے۔ جو لوگ آج ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں، ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے ساتھ ہوں۔ جو بات آج معمولی لگ رہی ہے، ممکن ہے چند سال بعد وہی ہماری سب سے قیمتی یاد بن جائے۔ اس لیے شاید ہمیں لوگوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی قدر کرنی چاہیے۔ ہر رشتے کو ہمیشہ قائم رکھنا ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن کسی کے ساتھ اچھا وقت گزارنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔ کسی کو عزت دینا ہمارے اختیار میں ہے۔ کسی کی بات سن لینا ہمارے اختیار میں ہے۔ کسی پریشان شخص کے لیے چند لمحے نکال لینا ہمارے اختیار میں ہے۔ کیونکہ آخر میں انسان کے پاس سب کچھ نہیں رہتا۔ کچھ لوگ رہ جاتے ہیں، کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، کچھ رشتے ختم ہو جاتے ہیں، کچھ راستے بدل جاتے ہیں، لیکن ان سب کے درمیان جو کچھ ہمارے اندر رہ جاتا ہے، وہی ہماری اصل کہانی بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں بہت پہلے آ جاتے ہیں اور ہمیں ان کی قدر بہت دیر سے ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگ واقعی دیر سے آتے ہیں، مگر آ کر ہمیں بہت کچھ سکھا جاتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں۔ خلوص صرف بڑے دعووں میں نہیں ہوتا۔ خاموشی بھی بہت کچھ کہتی ہے۔ دوری ہمیشہ نفرت نہیں ہوتی۔ کسی کو چھوڑ دینا ہمیشہ بے وفائی نہیں ہوتا۔ اور ہر وہ شخص جو ہماری زندگی سے چلا جائے، ضروری نہیں کہ وہ ہماری کہانی سے بھی نکل جائے۔ کچھ لوگ چلے جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے ایک ایسی سوچ چھوڑ جاتے ہیں جو ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ کچھ لوگ ہمیں ہنسنا سکھاتے ہیں۔ کچھ ہمیں رونا سکھاتے ہیں۔ کچھ ہمیں لوگوں پر بھروسہ کرنا سکھاتے ہیں۔ اور کچھ ہمیں یہ سمجھا جاتے ہیں کہ ہر کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ کچھ ہمیں محبت دیتے ہیں، کچھ ہمیں محبت کی قدر سکھاتے ہیں۔ اور کچھ ہمیں یہ سمجھا جاتے ہیں کہ سب سے ضروری رشتہ آخرکار خود سے ہوتا ہے۔ شاید زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ ہمیں ہر سبق ایک ہی کتاب سے نہیں ملتا۔ کچھ سبق وقت دیتا ہے، کچھ حالات دیتے ہیں، کچھ غلطیاں دیتی ہیں اور کچھ لوگ۔ بس فرق اتنا ہے کہ کتاب بند کر دی جائے تو سبق ختم ہو جاتا ہے، مگر کچھ لوگوں کے دیے ہوئے سبق عمر بھر ہمارے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ اسی لیے اگر زندگی میں کبھی کوئی شخص دیر سے آیا ہے تو صرف یہ مت سوچیں کہ وہ اتنی دیر سے کیوں آیا۔ کبھی یہ بھی سوچیں کہ شاید اسے اسی وقت آنا تھا۔ شاید اس سے پہلے ہم اسے سمجھنے کے قابل نہیں تھے۔ شاید اس سے پہلے ہمیں اس کی قدر معلوم نہیں تھی۔ اور شاید وہ شخص ہماری زندگی میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا تھا۔ شاید وہ صرف اتنا بتانے آیا تھا کہ زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ ابھی بہت سے لوگ ملنے ہیں۔ ابھی بہت سی باتیں سمجھنی ہیں۔ اور ابھی زندگی کو ایک نئے انداز سے دیکھنا باقی ہے۔

کچھ لوگ دیر سے آتے ہیں، بہت کچھ سکھا جاتے ہیں۔

اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف ہماری زندگی میں آئے نہیں تھے، وہ ہماری زندگی کا ایک حصہ بدل کر گئے تھے۔

2 Comments

  • Faiza

    Very imoressive and painful as well.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

© 2024 Created by GoodToBest