ہم ہر وقت تھکے کیوں رہتے ہیں؟ دماغ بھی تو تھکتا ہے

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے پورا دن کوئی خاص جسمانی کام نہیں کیا ہوتا، پھر بھی شام ہوتے ہی جسم بوجھل محسوس ہونے لگتا ہے۔ دل کرتا ہے بس لیٹ جائیں اور کسی سے بات بھی نہ کریں۔ کبھی نیند پوری کرنے کے باوجود صبح اٹھتے ہی تھکن محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے رات بھر آرام کرنے کے باوجود جسم اور دماغ دونوں کو آرام نہیں ملا۔

ہم اکثر اس تھکن کو جسمانی کمزوری سمجھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید زیادہ کام کرنے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن ہر تھکن جسم کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات جسم آرام مانگ رہا ہوتا ہے، مگر اصل میں تھکا ہوا ہمارا دماغ ہوتا ہے۔

آج کی زندگی میں دماغ کو آرام ملنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، خبریں، کام، گھر کی ذمہ داریاں، پیسوں کی فکر، مستقبل کے سوالات اور دوسروں سے موازنہ ہماری سوچ کو مسلسل مصروف رکھتے ہیں۔ جسم ایک جگہ بیٹھا ہوتا ہے، لیکن دماغ مسلسل دوڑ رہا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آتی وہ آخر اتنے تھکے ہوئے کیوں رہتے ہیں۔

دماغ بھی تھکتا ہے

ہم جسمانی تھکن کو آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کئی گھنٹے پیدل چلے، سیڑھیاں چڑھے یا بھاری کام کرے تو اس کا تھک جانا بالکل فطری بات ہے۔ لیکن ذہنی تھکن اتنی واضح نہیں ہوتی۔ دماغ بھی مسلسل کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی مسئلے کے بارے میں سوچتے ہیں، فیصلہ کرتے ہیں، کسی بات کی فکر کرتے ہیں یا ایک ساتھ کئی کام سنبھالتے ہیں تو دماغ پر بوجھ بڑھتا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دماغ کی تھکن نظر نہیں آتی۔ ہاتھوں میں درد نہیں ہوتا۔ ٹانگیں بھی لازمی طور پر نہیں دکھاتیں کہ وہ تھک گئی ہیں۔ لیکن انسان کے اندر ایک عجیب سی بے دلی پیدا ہونے لگتی ہے۔ چھوٹی سی بات پریشان کرنے لگتی ہے۔ کسی کام کو شروع کرنے کا دل نہیں کرتا۔ توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان معمولی فیصلوں سے بھی اکتا جاتا ہے۔ یہ ذہنی تھکن کی عام علامات میں شامل ہو سکتی ہیں۔

ہر وقت سوچتے رہنا

آج کا انسان شاید پہلے سے زیادہ سوچتا ہے۔ ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا ذہن میں آ جاتا ہے۔ اگر نوکری ہے تو کام کی فکر۔ کاروبار ہے تو آمدنی کی فکر۔ گھر ہے تو اخراجات کی فکر۔ بچوں کی ذمہ داریاں ہیں تو ان کے مستقبل کی فکر۔ صحت کا مسئلہ ہو تو بیماری کی فکر۔ کبھی کبھی مسئلہ ہمارے سامنے موجود بھی نہیں ہوتا، لیکن ہم اس کے بارے میں پہلے ہی سوچ رہے ہوتے ہیں۔ “اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہوگا؟” “اگر پیسے کم پڑ گئے تو؟” “اگر یہ کام خراب ہو گیا تو؟” “لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟” ایسے سوالات بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن جب دماغ انہیں بار بار دہراتا رہے تو انسان اندر سے تھکنے لگتا ہے۔ کئی بار ہم بستر پر لیٹے ہوتے ہیں، جسم آرام کر رہا ہوتا ہے، لیکن دماغ پچھلے دن کی باتیں اور آنے والے دن کے مسائل دہرا رہا ہوتا ہے۔ آنکھیں بند ہوتی ہیں مگر ذہن بند نہیں ہوتا۔

موبائل فون نے دماغ کو مصروف کر دیا ہے

موبائل فون ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس نے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک مسئلہ بھی آیا ہے۔ ہم دماغ کو خالی رہنے کا موقع کم دیتے ہیں۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل دیکھنا۔ ناشتے کے دوران موبائل دیکھنا۔ کام کے درمیان موبائل دیکھنا۔ فارغ وقت میں موبائل دیکھنا۔ سونے سے پہلے بھی موبائل دیکھنا۔ ایک وقت تھا جب انسان کچھ دیر خاموش بیٹھتا تھا۔ کھڑکی سے باہر دیکھتا تھا۔ چائے پیتے ہوئے صرف چائے پیتا تھا۔ سفر میں راستہ دیکھتا تھا۔ اب چند منٹ خاموشی ملتے ہی ہاتھ موبائل کی طرف چلا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ختم ہوتی ہے تو دوسری سامنے آ جاتی ہے۔ ایک خبر پڑھتے ہیں تو دوسری خبر آ جاتی ہے۔ ایک پوسٹ دیکھتے ہیں تو درجنوں نئی پوسٹس سامنے ہوتی ہیں۔ دماغ کو مسلسل نئی معلومات ملتی رہتی ہیں۔ یہ مسلسل توجہ اور معلومات کا سلسلہ ذہنی تھکن میں اضافہ کر سکتا ہے۔

وشل میڈیا بھی ذہنی تھکن کی وجہ بن سکتا ہے

سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنی زندگی کا ایک خاص حصہ دکھاتا ہے۔ کوئی اپنی کامیابی دکھاتا ہے۔ کوئی سفر۔ کوئی نئی گاڑی۔ کوئی اچھا گھر۔ کوئی خوشی کی تقریب۔ ہم ان تصویروں اور ویڈیوز کو دیکھتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید سب لوگ ہم سے زیادہ خوش ہیں۔ یہ خیال اندر ہی اندر انسان کو تھکا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دوسرا شخص خوش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کا موازنہ کسی دوسرے شخص کی زندگی کے چند خوبصورت لمحوں سے کرنے لگتے ہیں۔ یہ موازنہ ذہن پر غیر ضروری دباؤ پیدا کرتا ہے۔

ہر وقت خوش رہنے کی کوشش بھی تھکا دیتی ہے

ہمیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ ہمیشہ خوش رہنا چاہیے۔ ہمیشہ مثبت سوچنا چاہیے۔ کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مثبت سوچ اچھی چیز ہے۔ لیکن انسان ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا۔ زندگی میں پریشانی بھی آتی ہے۔ اداسی بھی آتی ہے۔ ناکامی بھی ہوتی ہے۔ کبھی دل بھی ٹوٹتا ہے۔ کبھی انسان خود سے بھی ناراض ہوتا ہے۔ اگر ہم ہر منفی احساس کو فوراً دبانے کی کوشش کریں تو ذہن پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔ کبھی کبھی تھوڑا اداس ہونا بھی انسانی فطرت ہے۔ ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اپنے احساسات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہر احساس سے لڑنا ضروری نہیں۔

نیند پوری ہونے کے باوجود تھکن کیوں رہتی ہے؟

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے سات یا آٹھ گھنٹے سویا، پھر بھی صبح تازگی محسوس نہیں ہوئی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔نیند صرف گھنٹوں کا نام نہیں۔ نیند کا معیار بھی اہم ہے۔ اگر انسان بار بار جاگتا رہے، رات دیر تک موبائل استعمال کرتا رہے، ذہن میں بہت زیادہ خیالات ہوں یا سونے کا معمول خراب ہو تو نیند کا سکون متاثر ہو سکتا ہے۔ کبھی جسم بستر پر ہوتا ہے لیکن دماغ ابھی تک دن بھر کے واقعات میں الجھا ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات لمبی نیند کے بعد بھی انسان خود کو تازہ محسوس نہیں کرتا۔ اگر مسلسل نیند کی کمی، بہت زیادہ تھکن یا دن بھر غنودگی رہتی ہو تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اوقات اس کے پیچھے کوئی جسمانی یا طبی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

کام کم اور فیصلے زیادہ

ہم روزانہ بہت سے فیصلے کرتے ہیں۔ کیا کھانا ہے؟ کیا خریدنا ہے؟ کس کو جواب دینا ہے؟ کون سا کام پہلے کرنا ہے؟ کہاں جانا ہے؟ کس سے بات کرنی ہے؟ یہ سب معمولی فیصلے لگتے ہیں، لیکن پورے دن میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ جب دماغ کو مسلسل فیصلے کرنے پڑیں تو انسان ذہنی طور پر تھک سکتا ہے۔ اسی لیے زندگی میں کچھ معمول بنانا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ مثلاً روزانہ کے کچھ کام تقریباً ایک ہی وقت پر کرنا۔ غیر ضروری فیصلے کم کرنا۔ ہر پیغام کا فوراً جواب نہ دینا۔ ہر مسئلے کو اسی وقت حل کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ ہر چیز فوری نہیں ہوتی۔

دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش

کچھ لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کو خوش رکھنے میں گزار دیتے ہیں۔ وہ ہر کسی کی بات سنتے ہیں۔ ہر کسی کی مدد کرتے ہیں۔ کسی کو ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اپنی ضرورت سے پہلے دوسروں کی ضرورت دیکھتے ہیں۔ یہ عادت بظاہر اچھی لگتی ہے۔ لیکن اگر انسان مسلسل اپنی خواہشات اور حدود کو نظر انداز کرتا رہے تو اندر سے تھکن پیدا ہو سکتی ہے۔ ہر درخواست قبول کرنا ضروری نہیں۔ ہر بحث میں شامل ہونا ضروری نہیں۔ ہر شخص کو جواب دینا بھی ضروری نہیں۔ کبھی کبھی “نہیں” کہنا بھی ذہنی سکون کا حصہ ہوتا ہے

 پرانی باتوں کو بار بار سوچنا

کچھ لوگ موجودہ لمحے میں کم اور ماضی میں زیادہ رہتے ہیں۔ کسی نے کیا کہا تھا۔ کیا ہونا چاہیے تھا۔ میں نے وہ فیصلہ کیوں کیا۔ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ ماضی سے سبق لینا اچھی بات ہے۔ لیکن ماضی کو بار بار ذہن میں دہرانا کوئی حل نہیں۔ جو بات گزر گئی، اسے ہر روز دوبارہ جینا انسان کو اندر سے تھکا سکتا ہے۔ اسی طرح مستقبل کی ہر ممکن پریشانی کے بارے میں سوچتے رہنا بھی ذہنی سکون چھین لیتا ہے۔ زندگی کا اصل وقت موجودہ لمحہ ہے۔

ہر وقت خبریں دیکھنا بھی ضروری نہیں

دنیا میں ہر وقت کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ اچھی خبریں بھی ہیں اور بری خبریں بھی۔ موبائل فون نے ہمیں ہر واقعہ فوراً بتانے کا انتظام کر دیا ہے۔ لیکن کیا ہمیں ہر خبر اسی وقت جاننا ضروری ہے؟ ہر چند منٹ بعد خبریں دیکھنے سے دماغ کو مسلسل نئے واقعات پر توجہ دینی پڑتی ہے۔ کبھی کسی حادثے کی خبر۔ کبھی معاشی مسئلہ۔ کبھی سیاسی بحث۔ کبھی کوئی خوفناک واقعہ۔ اگر انسان سارا دن ایسی معلومات لیتا رہے تو ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ خبریں دیکھیں، لیکن اپنی ذہنی حدود کو بھی سمجھیں۔

جسمانی حرکت کی کمی

ذہنی تھکن کا مطلب یہ نہیں کہ صرف دماغ ہی ذمہ دار ہے۔ جسمانی سرگرمی بھی اہم ہے۔ جب ہم پورا دن بیٹھے رہتے ہیں اور جسم کو حرکت بہت کم ملتی ہے تو سستی محسوس ہو سکتی ہے۔ جسمانی حرکت خون کی گردش اور مجموعی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ اس کے لیے لازمی نہیں کہ انسان بہت سخت ورزش کرے۔ روزانہ کچھ دیر پیدل چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی کرنا یا مسلسل بیٹھنے کے دوران کچھ دیر حرکت کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ اصل مقصد جسم کو بالکل بے حرکت نہ رکھنا ہے۔

تھکن کا علاج ہمیشہ آرام نہیں ہوتا

یہ بات کچھ عجیب لگ سکتی ہے، لیکن ہر تھکن کا حل صرف مزید لیٹنا نہیں۔ اگر دماغ مسلسل موبائل، خبروں، پریشانیوں اور سوچوں میں مصروف ہے تو صرف بستر پر لیٹنے سے ذہنی سکون لازمی طور پر واپس نہیں آتا۔

کبھی دماغ کو حقیقی وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موبائل ایک طرف رکھنا۔ کچھ دیر خاموش بیٹھنا۔ تھوڑی واک کرنا۔ کسی قریبی شخص سے دل کی بات کرنا۔ قدرتی ماحول میں وقت گزارنا۔ اپنے کاموں کو تھوڑا منظم کرنا۔ یہ چھوٹی چیزیں ذہن کو وقفہ دے سکتی ہیں۔

دماغ کو بھی خاموشی چاہیے

ہم خاموشی سے گھبرانے لگے ہیں۔ کمرے میں خاموشی ہو تو موبائل چلا لیتے ہیں۔ گاڑی میں خاموشی ہو تو کچھ سننا شروع کر دیتے ہیں۔ چند منٹ فارغ ہوں تو سوشل میڈیا کھول لیتے ہیں۔ لیکن دماغ کو کبھی کبھی خاموشی بھی چاہیے۔

ہر خالی لمحے کو معلومات سے بھرنا ضروری نہیں۔ کچھ دیر کچھ نہ کرنا بھی آرام کا حصہ ہو سکتا ہے۔ خاموشی میں بیٹھنا وقت ضائع کرنا نہیں۔ بعض اوقات یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ذہن خود کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے۔

ہر کام ایک ساتھ کرنے کی کوشش نہ کریں

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ایک وقت میں کئی کام کرنے سے ہمارا وقت بچ جائے گا۔ موبائل پر پیغام بھی دیکھ رہے ہیں۔ ساتھ کام بھی کر رہے ہیں۔ درمیان میں خبریں بھی پڑھ رہے ہیں۔ پھر کسی کی کال آ جاتی ہے۔ اس طرح دماغ کو بار بار ایک کام سے دوسرے کام کی طرف جانا پڑتا ہے۔ اس سے توجہ بکھر سکتی ہے اور ذہنی تھکن بڑھ سکتی ہے۔

ایک وقت میں ایک کام پر توجہ دینا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ ضروری کام پہلے کریں۔ غیر ضروری چیزوں کو بعد کے لیے چھوڑ دیں۔ ہر کام آج ہی مکمل کرنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگوں سے فاصلہ بھی ضروری ہوتا ہے

ہماری تھکن کی وجہ ہمیشہ کام نہیں ہوتے۔ کبھی کچھ تعلقات بھی انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ہر وقت شکایت کرتے ہیں۔ ہر بات میں مسئلہ نکالتے ہیں۔ دوسروں کو نیچا دکھاتے ہیں یا مسلسل منفی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے مکمل تعلق ختم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن اپنی ذہنی حدود بنانا ممکن ہے۔ ہر بحث کا حصہ بننا ضروری نہیں۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ کبھی خاموش رہ جانا بھی سمجھ داری ہے۔

اپنی رفتار دوسروں سے نہ ملائیں

سوشل میڈیا کے دور میں ہمیں لگتا ہے کہ سب لوگ ہم سے آگے نکل رہے ہیں۔ کوئی کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی گھر بنا رہا ہے۔ کوئی بیرون ملک جا رہا ہے۔ کوئی نئی گاڑی خرید رہا ہے۔ لیکن ہر انسان کی زندگی کا سفر مختلف ہے۔ آپ کی زندگی کی رفتار کسی دوسرے شخص سے مختلف ہو سکتی ہے۔ ہر وقت دوسروں سے مقابلہ کرتے رہنا انسان کو تھکا دیتا ہے۔ اپنی زندگی کو کل کی اپنی زندگی سے بہتر بنانے کی کوشش زیادہ پرسکون راستہ ہے۔

آرام کا مطلب صرف سونا نہیں

ہم آرام کو اکثر نیند کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ لیکن آرام کی کئی شکلیں ہیں۔ جسمانی آرام۔ ذہنی آرام۔ جذباتی آرام۔ کبھی جسم کو آرام چاہیے ہوتا ہے۔ کبھی دماغ کو۔ کبھی انسان کو صرف کسی ایسے شخص سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سمجھے۔ اسی لیے اگر آپ مسلسل تھکن محسوس کرتے ہیں تو خود سے یہ بھی پوچھیں کہ آپ آخر کس چیز سے تھکے ہوئے ہیں۔ شاید جسم تھکا ہوا ہو۔ شاید دماغ۔ شاید دل۔ یا شاید زندگی میں بہت سی چیزیں ایک ساتھ چل رہی ہوں۔

خود کو ہر وقت مصروف رکھنا ضروری نہیں

ہم نے مصروفیت کو کامیابی کی علامت سمجھ لیا ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں بہت مصروف ہوں تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ بہت اہم کام کر رہا ہے۔ لیکن ہر وقت مصروف رہنا ضروری نہیں۔ زندگی میں کچھ خالی جگہ بھی ہونی چاہیے۔ ایسا وقت جب کوئی کام نہ ہو۔ کوئی ہدف نہ ہو۔ کوئی کال نہ ہو۔ کوئی نوٹیفکیشن نہ ہو۔ یہ خالی وقت ذہن کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے۔

تھکن کو نظر انداز نہ کریں

کبھی کبھار تھکاوٹ معمول کی بات ہے۔ لیکن اگر تھکن مسلسل رہتی ہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو اس کی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر اگر تھکن کے ساتھ وزن میں غیر معمولی تبدیلی، مسلسل کمزوری، سانس پھولنا، چکر آنا، نیند کے شدید مسائل یا دوسری واضح علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ ہر تھکن کو صرف ذہنی دباؤ سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ کبھی جسم واقعی کسی مسئلے کی طرف توجہ دلا رہا ہوتا ہے۔

دماغ کو روزانہ تھوڑا آرام دیں

ہم اپنے موبائل کو چارج کرتے ہیں۔ گاڑی میں ایندھن ڈالتے ہیں۔ گھر کی صفائی کرتے ہیں۔ لیکن اپنے دماغ کے بارے میں اکثر بھول جاتے ہیں۔ دماغ کو بھی وقفہ چاہیے۔ روزانہ کچھ وقت موبائل سے دور رہیں۔ کچھ دیر واک کریں۔ غیر ضروری خبروں سے وقفہ لیں۔ اپنے کاموں کی فہرست مختصر رکھیں۔ ہر مسئلے کو فوری حل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ممکن ہو تو سونے سے پہلے کچھ دیر پرسکون ماحول رکھیں۔ اپنے دماغ کو یہ احساس دیں کہ ابھی اسے کچھ نہیں کرنا۔

اصل مسئلہ شاید زندگی کی رفتار ہے

ہم ایک تیز رفتار زندگی میں رہ رہے ہیں۔ ہر چیز فوری چاہیے۔ فوری جواب۔ فوری خبر۔ فوری کامیابی۔ فوری تفریح۔

ہم انتظار کرنا بھولتے جا رہے ہیں۔ لیکن انسان کی ذہنی طاقت لامحدود نہیں۔ مسلسل رفتار آخرکار تھکن پیدا کرتی ہے۔ شاید ہمیں زندگی چھوڑنے کی نہیں، زندگی کی رفتار تھوڑی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر دن کو دوڑ بنا دینا ضروری نہیں۔ کچھ راستے آہستہ چل کر بھی طے کیے جا سکتے ہیں۔

کبھی خود سے بھی پوچھیں

اگر آپ اکثر تھکے رہتے ہیں تو ایک دن خاموشی سے خود سے پوچھیں۔ میں واقعی کس چیز سے تھکا ہوا ہوں؟

کیا میرا جسم تھکا ہوا ہے؟ کیا میری نیند پوری نہیں ہو رہی؟ کیا میں بہت زیادہ سوچ رہا ہوں؟ کیا موبائل میری توجہ مسلسل کھینچ رہا ہے؟ کیا میں دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش میں خود کو بھول گیا ہوں؟ کیا میں ماضی کو بار بار دہرا رہا ہوں؟ کیا میں مستقبل کی ہر ممکن پریشانی ابھی سے اپنے سر لے رہا ہوں؟ ان سوالات کے جواب شاید آپ کو اپنی تھکن کی اصل وجہ سمجھنے میں مدد دیں۔

دماغ کو بھی چھٹی چاہیے

ہم کام سے چھٹی لیتے ہیں۔ لیکن دماغ کو چھٹی نہیں دیتے۔ دفتر بند ہو جاتا ہے، مگر کام کی سوچ جاری رہتی ہے۔ موبائل بند نہیں ہوتا۔ خبریں بند نہیں ہوتیں۔ سوشل میڈیا بند نہیں ہوتا۔ پریشانیاں بھی بند نہیں ہوتیں۔ اس لیے کبھی کبھی جان بوجھ کر ذہنی وقفہ لینا ضروری ہے۔ کچھ وقت ایسا ہونا چاہیے جب آپ کو کسی چیز کا جواب نہ دینا ہو۔ کسی چیز کے بارے میں فیصلہ نہ کرنا ہو۔ کسی کو کچھ ثابت نہ کرنا ہو۔ بس سکون سے بیٹھنا ہو۔

زندگی میں تھوڑا سکون بھی ضروری ہے

ہم زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ زیادہ پیسہ۔ بہتر گھر۔ اچھی صحت۔ کامیاب بچے۔ بہتر مستقبل۔ یہ سب خواہشات اپنی جگہ درست ہیں۔ لیکن اگر ان سب کے درمیان سکون ہی ختم ہو جائے تو انسان کے پاس بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی اندر سے خالی محسوس کر سکتا ہے۔ زندگی صرف کام کرنے، کمانے اور مسائل حل کرنے کا نام نہیں۔ زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی ہونے چاہئیں جن میں انسان صرف زندہ ہونے کو محسوس کرے۔ ایک کپ چائے۔ خاموش صبح۔ ہلکی سی واک۔ اپنوں سے بات۔ پسندیدہ کتاب۔ کھلی ہوا۔ یا صرف چند منٹ خاموشی۔ یہ چھوٹی چیزیں زندگی کو دوبارہ نرم بنا سکتی ہیں۔

آخر میں

ہم ہر وقت تھکے ہوئے کیوں رہتے ہیں؟ اس سوال کا ایک ہی جواب نہیں۔ کبھی جسم تھکتا ہے۔ کبھی نیند کم ہوتی ہے۔ کبھی کام زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن کبھی اصل تھکن ہمارے دماغ کی ہوتی ہے۔ ہم بہت زیادہ سوچتے ہیں۔ بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ بہت زیادہ سنتے ہیں۔ بہت زیادہ موازنہ کرتے ہیں۔ ہر چیز کا فوری جواب چاہتے ہیں اور ہر مسئلے کو فوراً حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے دماغ کو بہت کم وقفہ دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمیں آرام کے باوجود آرام محسوس نہیں ہوتا۔ اس لیے اگلی بار جب آپ خود کو بلاوجہ تھکا ہوا محسوس کریں تو فوراً خود کو کمزور نہ سمجھیں۔ ممکن ہے آپ کو مزید کام کرنے کی نہیں، کچھ دیر رکنے کی ضرورت ہو۔ موبائل ایک طرف رکھیں۔ گہری سانس لیں۔ کچھ دیر خاموش رہیں۔ تھوڑی واک کریں۔ اپنے ذہن کو ہر وقت مصروف رکھنے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ جسم کی طرح دماغ بھی تھکتا ہے۔ اور کبھی کبھی سب سے ضروری کام یہی ہوتا ہے کہ انسان کچھ دیر کے لیے خود کو دنیا سے نہیں، اپنی مسلسل سوچوں سے آرام دے۔

4 Comments

  • Khola

    👍🏻

    • Mubashar Ahmad Shahid

      Wonderful

      • Thank you. Please keep visiting for more updates

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

© 2024 Created by GoodToBest