گھر میں کھانا بنانا روزمرہ زندگی کا ایک ایسا کام ہے جس میں وقت، محنت اور پیسہ تینوں خرچ ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دوپہر کا پکا ہوا سالن رات تک فریج میں رکھا رہ جاتا ہے، روٹیوں کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہو جاتی ہے یا مہمانوں کے لیے تیار کیا گیا کھانا اگلے دن بھی بچا رہتا ہے۔ بعض اوقات ہم بچا ہوا کھانا استعمال کرنے کے بجائے اسے پھینک دیتے ہیں، حالانکہ تھوڑی سی منصوبہ بندی سے اسی کھانے کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچا ہوا کھانا ضائع ہونے سے بچانا صرف پیسے کی بچت کا معاملہ نہیں بلکہ گھر کے وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے کی ایک اچھی عادت بھی ہے۔ اگر ہم کھانا پکانے، محفوظ رکھنے اور دوبارہ پیش کرنے کے طریقوں میں معمولی تبدیلیاں کر لیں تو گھر میں کھانے کا ضیاع کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
کھانا پکانے سے پہلے گھر کی ضرورت کا اندازہ لگائیں
کھانا ضائع ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم گھر میں موجود افراد کی تعداد اور ان کی بھوک کا درست اندازہ لگائے بغیر کھانا تیار کر لیتے ہیں۔ بعض گھروں میں ہر روز ضرورت سے زیادہ چاول پکائے جاتے ہیں، کہیں سالن کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور کہیں روٹیاں اتنی بن جاتی ہیں کہ کئی روٹیاں اگلے دن تک پڑی رہتی ہیں۔ اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ کھانا پکانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچ لیا جائے کہ آج گھر میں کتنے افراد کھانا کھائیں گے اور عام طور پر ہر فرد کتنی مقدار کھاتا ہے۔ اگر گھر میں تین افراد ہیں تو ضروری نہیں کہ ہر بار چھ یا سات افراد کے لیے کھانا تیار کیا جائے۔
گھر کے افراد کی عادتیں بھی اس معاملے میں اہم ہوتی ہیں۔ بچے کبھی زیادہ کھاتے ہیں اور کبھی کم، جبکہ بعض افراد دوپہر کا کھانا گھر سے باہر کھاتے ہیں۔ اگر کسی دن گھر کے زیادہ افراد باہر ہوں تو اس دن معمول سے کم کھانا پکانا بہتر ہے۔ اسی طرح اگر اگلے دن کسی خاص مصروفیت کی وجہ سے گھر میں کھانا نہیں بن سکے گا تو تھوڑی زیادہ مقدار تیار کرنا مناسب ہو سکتا ہے۔ اصل مقصد ہر روز ایک ہی مقدار میں کھانا پکانا نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق مقدار کا فیصلہ کرنا ہے۔
ہفتے بھر کے کھانے کی سادہ منصوبہ بندی کریں
گھر کے کھانے کی منصوبہ بندی کے لیے کسی پیچیدہ طریقے کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف ایک کاغذ پر لکھ سکتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں کون سا سالن، دال، سبزی یا چاول پکانے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک ہی چیز بار بار تیار نہیں ہوتی اور پہلے سے موجود کھانے کو استعمال کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر اتوار کو دال زیادہ بن گئی ہے تو پیر کے کھانے میں اسے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دال کو محفوظ طریقے سے رکھا گیا ہو۔
منصوبہ بندی کرتے وقت فریج اور باورچی خانے میں موجود اشیا کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ ممکن ہے کہ ٹوکری میں رکھی ہوئی سبزیاں چند دنوں میں خراب ہونے والی ہوں یا فریج میں موجود دہی استعمال کرنے کی ضرورت ہو۔ ایسی صورت میں نئی چیزیں خریدنے کے بجائے پہلے سے موجود اشیا کو کھانے میں شامل کرنا بہتر ہے۔ اس عادت سے نہ صرف کھانا ضائع ہونے سے بچتا ہے بلکہ غیر ضروری خریداری بھی کم ہوتی ہے۔ مہینے کے آخر میں جب گھر کے اخراجات کا حساب لگایا جائے تو ایسی چھوٹی چھوٹی بچتوں کا فائدہ واضح ہونے لگتا ہے۔
بچا ہوا سالن اگلے کھانے میں کیسے استعمال کریں؟
بچا ہوا سالن ہر بار اسی طرح دوبارہ پیش کرنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات گھر کے افراد ایک ہی سالن دوبارہ کھانے سے اکتا جاتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ضائع کر دیا جائے۔ تھوڑی سی تبدیلی سے اسی کھانے کو ایک نئی شکل دی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر بچی ہوئی سبزی کو پراٹھے کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے یا مناسب سبزی کو استعمال کرتے ہوئے بھرے ہوئے پراٹھے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر چنے یا لوبیا بچے ہوں تو انہیں تازہ پیاز، ٹماٹر اور لیموں کے ساتھ ملا کر ایک سادہ سا چٹ پٹا کھانا بنایا جا سکتا ہے۔
اگر سالن کی مقدار کم ہو تو اسے کسی دوسرے کھانے کے ساتھ شامل کرنا بھی ایک اچھا طریقہ ہے۔ تھوڑے سے بچے ہوئے چکن کو سبزیوں کے ساتھ ملا کر سینڈوچ کی بھرائی تیار کی جا سکتی ہے، جبکہ بچی ہوئی مناسب سبزی کو چاول کے ساتھ ملا کر ایک مختلف کھانا بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات ضروری ہے کہ ہر بچے ہوئے کھانے کو ہر دوسری چیز کے ساتھ ملانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ذائقے، اجزا اور کھانے کی محفوظ حالت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر کھانے کی بو، رنگ یا حالت غیر معمولی ہو تو اسے نئی شکل دے کر استعمال کرنے کے بجائے پھینک دینا زیادہ محفوظ ہے۔
بچی ہوئی روٹیوں کو ضائع ہونے سے بچائیں
پاکستانی گھروں میں روٹی روزمرہ کھانے کا اہم حصہ ہے، اس لیے کئی گھروں میں روٹیوں کا بچ جانا عام بات ہے۔ کبھی گھر کے افراد کم کھاتے ہیں اور کبھی سالن زیادہ ہونے کی وجہ سے روٹیوں کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اگر روٹیاں صاف اور محفوظ حالت میں رکھی گئی ہوں تو انہیں اگلے کھانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچی ہوئی روٹی کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر مناسب سبزی یا انڈے کے ساتھ پکایا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ روٹی کے ٹکڑوں کو ہلکا سا سینک کر بھی استعمال کرتے ہیں، جس سے کھانے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔
روٹیوں کو محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی اہم ہے۔ گرم روٹیوں کو بند تھیلی میں رکھنے سے پہلے بھاپ نکلنے کا موقع دیں، تاکہ اندر نمی جمع نہ ہو۔ اگر روٹیاں جلد استعمال کرنی ہوں تو انہیں صاف، ڈھکے ہوئے برتن میں رکھا جا سکتا ہے، جبکہ زیادہ دیر کے لیے محفوظ کرنا ہو تو انہیں فریج یا فریزر میں رکھنا بہتر ہے۔ گرم موسم میں روٹیوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر طویل وقت تک چھوڑنے سے گریز کریں۔ اگر روٹی پر پھپھوندی نظر آئے یا اس کی بو غیر معمولی ہو تو اسے استعمال نہ کریں۔
بچے ہوئے چاول سے نیا کھانا تیار کریں
چاول پکاتے وقت مقدار کا اندازہ لگانا کبھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب گھر میں بریانی، پلاؤ یا سادہ چاول تیار کیے جا رہے ہوں۔ اگر چاول بچ جائیں تو انہیں فوراً ضائع کرنے کے بجائے اگلے کھانے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ مناسب طریقے سے محفوظ کیے گئے سادہ چاولوں میں سبزیاں شامل کر کے چاولوں کی ایک نئی ڈش تیار کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بچے ہوئے چاول کو مناسب مصالحوں کے ساتھ دوبارہ پکایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ انہیں پہلے محفوظ طریقے سے ٹھنڈا کر کے فریج میں رکھا گیا ہو۔
چاول کے معاملے میں خاص احتیاط ضروری ہے، کیونکہ پکے ہوئے چاول کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ دیر پڑے رہنے سے ایسے جراثیم کی افزائش کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جن کے بنائے ہوئے زہریلے مادے دوبارہ گرم کرنے سے بھی ختم نہیں ہوتے۔ اس لیے چاول پکنے کے بعد انہیں گھنٹوں باہر چھوڑنے کے بجائے جلد ٹھنڈا کر کے فریج میں رکھیں۔ انہیں چھوٹے، کم گہرے برتنوں میں رکھنے سے ٹھنڈا کرنا آسان ہوتا ہے۔ دوبارہ استعمال کرتے وقت انہیں اچھی طرح گرم کریں اور بار بار گرم کرنے اور ٹھنڈا کرنے سے بچیں۔
فریج میں کھانا رکھنے کا درست طریقہ اپنائیں
بہت سا کھانا صرف اس لیے ضائع ہو جاتا ہے کہ اسے فریج میں صحیح طریقے سے نہیں رکھا جاتا۔ کبھی سالن کھلے برتن میں رکھ دیا جاتا ہے، کبھی ایک بڑے برتن میں اتنا کھانا بھر دیا جاتا ہے کہ اسے ٹھنڈا ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور کبھی کھانا فریج کے کسی کونے میں رکھ کر بھلا دیا جاتا ہے۔ ان مسائل سے بچنے کے لیے بچا ہوا کھانا صاف، ڈھکن والے برتنوں میں رکھیں اور کوشش کریں کہ برتن اتنے چھوٹے ہوں کہ کھانا جلد ٹھنڈا ہو سکے۔
پکے ہوئے کھانے کو کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ اگر موسم بہت گرم ہو اور درجہ حرارت تقریباً 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو یہ مدت ایک گھنٹے تک محدود رکھنی چاہیے۔ کھانے کو جلد ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے فریج میں رکھیں۔ فریج کا درجہ حرارت تقریباً 4 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم ہونا چاہیے۔ عام طور پر بچا ہوا پکا ہوا کھانا فریج میں تین سے چار دن کے اندر استعمال کر لینا چاہیے، جبکہ زیادہ دیر کے لیے محفوظ کرنا ہو تو فریزر بہتر انتخاب ہے۔ کھانے کی قسم اور اسے محفوظ رکھنے کے حالات کے مطابق مدت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے شک ہونے پر احتیاط کریں۔
فریج میں پہلے رکھا ہوا کھانا پہلے استعمال کریں
بعض گھروں میں فریج کھانے کے برتنوں سے بھرا ہوتا ہے، لیکن جب کھانے کا وقت آتا ہے تو نئے سرے سے کھانا پکایا جاتا ہے۔ پرانے برتن پیچھے رہ جاتے ہیں اور کئی دن بعد معلوم ہوتا ہے کہ کھانا خراب ہو چکا ہے۔ اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے ایک آسان اصول اپنائیں: پہلے سے رکھا ہوا کھانا پہلے استعمال کریں۔ جب بھی نیا کھانا فریج میں رکھیں تو اسے پرانے کھانے کے پیچھے اور پہلے استعمال ہونے والے برتن سامنے رکھیں۔
اگر ممکن ہو تو برتن پر تاریخ بھی لکھ دیں تاکہ معلوم رہے کہ کھانا کب تیار کیا گیا تھا۔ اس کے لیے مہنگے برتن یا خاص آلات خریدنے کی ضرورت نہیں؛ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا یا قابلِ استعمال نشان بھی کافی ہو سکتا ہے۔ ہفتے میں ایک یا دو بار فریج کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کون سی چیز پہلے استعمال ہونی چاہیے۔ اس معمول سے کھانا بھول جانے کا امکان کم ہوتا ہے اور فریج میں موجود اشیا کو وقت پر استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
سبزیوں اور پھلوں کو خراب ہونے سے بچائیں
کھانا ضائع ہونے کا تعلق صرف پکے ہوئے کھانے سے نہیں بلکہ کچی سبزیوں اور پھلوں سے بھی ہے۔ کبھی ہم بازار سے بہت زیادہ سبزیاں خرید لیتے ہیں اور پھر مصروفیت کی وجہ سے انہیں وقت پر استعمال نہیں کر پاتے۔ کچھ سبزیاں نرم پڑ جاتی ہیں، کچھ پھل زیادہ پک جاتے ہیں اور کچھ چیزیں فریج میں رکھی رہنے کے باوجود خراب ہو جاتی ہیں۔ اس لیے خریداری کرتے وقت پہلے سے موجود سبزیوں اور پھلوں کو دیکھنا ضروری ہے۔
سبزیاں خریدنے کے بعد انہیں مناسب جگہ پر رکھیں اور خراب ہونے والی چیزوں کو پہلے استعمال کریں۔ مثال کے طور پر اگر ٹماٹر زیادہ پک چکے ہوں تو انہیں سالن یا چٹنی میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ نرم مگر صحیح حالت میں موجود پھلوں سے شربت یا دوسری مناسب چیز تیار کی جا سکتی ہے۔ تاہم خراب، سڑی ہوئی یا پھپھوندی لگی ہوئی چیز کو صرف اس لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ اسے ضائع ہونے سے بچانا ہے۔ بعض پھلوں اور نرم سبزیوں میں پھپھوندی کا اثر نظر آنے والے حصے سے آگے بھی پھیل سکتا ہے۔ اس لیے ایسی چیزوں کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔
مہمانوں کے لیے کھانا بناتے وقت مقدار کا خیال رکھیں
پاکستانی گھروں میں مہمانوں کی آمد پر اچھے کھانے کا اہتمام کرنا خوشی کی بات سمجھی جاتی ہے۔ اکثر میزبان یہ سوچ کر ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کرتے ہیں کہ کہیں کسی مہمان کے لیے کمی نہ ہو جائے۔ لیکن اگر اندازہ حقیقت سے بہت زیادہ مختلف ہو تو کافی کھانا بچ جاتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ مہمانوں کی تعداد کے مطابق مناسب مقدار تیار کی جائے اور ضرورت پڑنے پر مزید کھانا بنانے کی گنجائش رکھی جائے۔
اگر کھانا پہلے ہی زیادہ تیار ہو گیا ہو تو مہمانوں کو صاف برتنوں میں کھانا پیش کریں اور باقی کھانا بروقت محفوظ کر لیں۔ بچا ہوا کھانا گھر کے افراد کے لیے اگلے دن استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محفوظ رکھنے کے اصولوں کے مطابق رکھا گیا ہو۔ بعض اوقات میزبان مہمانوں کو گھر لے جانے کے لیے کھانا بھی دے سکتے ہیں، لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کھانا صاف برتن میں ہو اور اسے محفوظ طریقے سے لے جایا جا سکے۔ کھانے کی مقدار میں مناسب منصوبہ بندی سے مہمان نوازی بھی برقرار رہتی ہے اور ضیاع بھی کم ہوتا ہے۔
بچا ہوا کھانا دوبارہ گرم کرتے وقت احتیاط کریں
بچے ہوئے کھانے کو استعمال کرنے کا مطلب صرف اسے فریج سے نکال کر گرم کر لینا نہیں ہے۔ اگر کھانا مناسب طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا تو دوبارہ گرم کرنے کے باوجود اسے کھانا محفوظ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہمیشہ پہلے یہ دیکھیں کہ کھانا کتنی دیر باہر رہا، کب فریج میں رکھا گیا اور کتنے دن سے محفوظ ہے۔ صرف بو یا ذائقے پر بھروسا کرنا درست نہیں، کیونکہ بعض نقصان دہ جراثیم کی موجودگی کا اندازہ ان طریقوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔
بچے ہوئے کھانے کو دوبارہ گرم کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ پورے حصے میں اچھی طرح گرم ہو۔ عمومی طور پر دوبارہ گرم کیے جانے والے بچے ہوئے کھانے کا اندرونی درجہ حرارت تقریباً 74 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنا چاہیے۔ مائیکروویو میں گرم کرتے وقت کھانے کو درمیان میں ہلانا اور کچھ دیر چھوڑنا مفید ہے تاکہ گرمی ہر جگہ پہنچ سکے۔ بہتر ہے کہ صرف اتنی مقدار گرم کریں جتنی کھانی ہو۔ اس طرح باقی کھانا بار بار گرم کرنے سے بچ جاتا ہے اور اس کی حفاظت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
گھر کے افراد کو بھی کھانا بچانے کی عادت ڈالیں
کھانا ضائع ہونے سے روکنے کی ذمہ داری صرف اس شخص کی نہیں جو کھانا پکاتا ہے۔ گھر کے تمام افراد اس میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر بچے پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا لے لیتے ہیں اور پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں تو انہیں سمجھایا جا سکتا ہے کہ پہلے تھوڑی مقدار لیں اور ضرورت پڑنے پر مزید لے لیں۔ اسی طرح بڑوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بھوک کے مطابق کھانا لیں اور پلیٹ میں اتنا ہی ڈالیں جتنا آسانی سے کھا سکیں۔
گھر میں یہ عادت بھی اپنائی جا سکتی ہے کہ رات کے کھانے سے پہلے فریج میں موجود بچے ہوئے کھانے کو دیکھا جائے۔ اگر کسی سالن یا سبزی کی مقدار کم ہو تو اسے ضائع کرنے کے بجائے کھانے کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح گھر کے افراد آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کھانا صرف پلیٹ میں آنے والی چیز نہیں بلکہ اس کے پیچھے خریداری، تیاری، بجلی، گیس، پانی اور محنت بھی خرچ ہوتی ہے۔ جب سب لوگ اس بات کو اہمیت دیتے ہیں تو کھانا ضائع ہونے کی عادت کم کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
بچا ہوا کھانا اور ماہانہ بجٹ کا تعلق
کھانا ضائع ہونے سے گھر کے بجٹ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اگر ہر ہفتے کچھ روٹیاں، تھوڑے چاول، ایک برتن سالن اور چند سبزیاں ضائع ہو جائیں تو بظاہر یہ نقصان بہت چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن پورے مہینے میں یہی مقدار کئی کھانوں کے برابر ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ کھانا پکانے میں استعمال ہونے والی گیس، بجلی، پانی اور وقت بھی خرچ ہوتا ہے۔ اس لیے کھانے کو ضائع ہونے سے بچانا گھر کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔
آپ ایک ماہ کے لیے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنی بار کھانا ضائع ہوتا ہے اور اس کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اگر زیادہ تر کھانا مقدار زیادہ پکانے کی وجہ سے بچتا ہے تو اگلی بار کم پکائیں۔ اگر کھانا فریج میں بھول جانے سے خراب ہوتا ہے تو اسے سامنے رکھنے اور تاریخ لکھنے کی عادت اپنائیں۔ اگر سبزیاں خراب ہوتی ہیں تو خریداری کی مقدار کم کریں۔ اس طرح مسئلے کی اصل وجہ سامنے آ جاتی ہے اور اس کے مطابق تبدیلی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر تبدیلی ایک ہی دن میں کی جائے؛ چھوٹے قدم بھی وقت کے ساتھ اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔
نتیجہ
بچا ہوا کھانا ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بڑے انتظامات یا مہنگے آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کھانا پکانے سے پہلے مقدار کا اندازہ لگانا، خریداری میں احتیاط کرنا، بچے ہوئے کھانے کو صحیح طریقے سے محفوظ رکھنا اور فریج میں موجود چیزوں کو وقت پر استعمال کرنا ہی کافی حد تک فرق پیدا کر سکتا ہے۔ روٹی، چاول، سالن اور سبزیوں کو مناسب طریقے سے دوبارہ استعمال کر کے گھر کے کھانے میں تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے اور غیر ضروری اخراجات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
آج سے ایک چھوٹی سی عادت اپنائیں: اگلا کھانا پکانے سے پہلے فریج میں موجود بچے ہوئے کھانے کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ اسے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس معمول سے آہستہ آہستہ کھانا ضائع ہونے کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔ یاد رکھیں کہ سمجھ داری صرف کم کھانا پکانے میں نہیں بلکہ جو کھانا تیار ہو چکا ہے، اسے محفوظ طریقے سے اور پوری قدر کے ساتھ استعمال کرنے میں بھی ہے۔


















































2 Comments
Well written. Balanced and effective.
Thank you for your comments. Please keep visiting for more updates