والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ

ایک وقت تھا جب گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتا تھا۔ گھر ایک ایسی جگہ ہوتا تھا جہاں دن بھر کی تھکن ختم ہو جاتی تھی۔ والدین کے پاس بیٹھ کر باتیں ہوتیں۔ بچے اپنے دن کے قصے سناتے۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں سب مل کر مناتے۔ کبھی کسی بات پر ہنسی آتی اور کبھی کسی مسئلے پر سب مل کر سوچتے۔ گھر میں زیادہ سہولتیں نہیں تھیں، لیکن ایک دوسرے کے لیے وقت ضرور تھا۔ آج ہمارے گھروں کی شکل بدل گئی ہے۔ سہولتیں بڑھ گئی ہیں۔ موبائل فون ہر ہاتھ میں ہے۔ انٹرنیٹ ہر کمرے تک پہنچ چکا ہے۔ ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی گھر کا حصہ بن چکا ہے۔ بظاہر سب لوگ ایک دوسرے کے قریب ہیں، لیکن حقیقت میں ایک عجیب فاصلے نے جگہ بنا لی ہے۔ والدین اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ اولاد اپنی دنیا میں گم ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ کئی کئی گھنٹے ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ سب کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ سب کی نظریں اسکرین پر ہیں۔ خاموشی بڑھ رہی ہے اور گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ فاصلہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہ آہستہ آہستہ بڑھا ہے۔ شاید اتنا آہستہ کہ ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔

والدین اور اولاد کا رشتہ

والدین اور اولاد کا رشتہ دنیا کے خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک ہے۔ والدین اپنی اولاد کے لیے بہت کچھ قربان کرتے ہیں۔ وہ اپنی ضروریات کم کر کے بچوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم کے لیے محنت کرتے ہیں۔ ان کے مستقبل کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ اولاد بھی اپنے والدین سے محبت کرتی ہے۔ لیکن محبت صرف دل میں موجود ہونا کافی نہیں۔ محبت کا اظہار بھی ضروری ہے۔ وقت دینا بھی ضروری ہے۔ بات سننا بھی ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات مسئلہ محبت کی کمی نہیں ہوتا۔ مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ محبت کے باوجود ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔

فاصلے کی پہلی وجہ وقت کی کمی

آج والدین کے پاس پہلے سے زیادہ مصروفیات ہیں۔ کاروبار ہے۔ ملازمت ہے۔ گھر کے اخراجات ہیں۔ معاشی پریشانیاں ہیں۔ ہر شخص اپنی زندگی کے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ والدین اکثر سوچتے ہیں کہ وہ بچوں کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ یہ بات درست بھی ہے۔ لیکن بچے صرف چیزیں نہیں چاہتے۔ انہیں والدین کا وقت بھی چاہیے۔ ایک بچہ مہنگا موبائل فون حاصل کر کے خوش ہو سکتا ہے، لیکن اس کے دل میں یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ والدین کچھ دیر اس کے پاس بیٹھیں۔ وہ اس کی بات سنیں۔ اس کے سوال کا جواب دیں۔ اس کی کامیابی پر خوش ہوں۔ اس کی پریشانی کو سمجھیں۔ بعض اوقات والدین بچوں کو وہ سب کچھ دے دیتے ہیں جو پیسے سے خریدا جا سکتا ہے، لیکن وہ چیز نہیں دے پاتے جس کی بچے کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یعنی وقت۔

موبائل فون نے فاصلے کیسے بڑھائے؟

موبائل فون نے ہماری زندگی آسان بنائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اسی موبائل فون نے ہمارے گھروں میں خاموشی بھی پیدا کی ہے۔ کھانے کی میز پر پہلے گفتگو ہوتی تھی۔ اب کئی گھروں میں سب اپنے اپنے موبائل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والدین خبریں یا سوشل میڈیا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بچے ویڈیوز یا گیمز میں مصروف ہوتے ہیں۔ والدین بچے سے پوچھتے ہیں کہ اسکول کیسا رہا۔ بچہ مختصر سا جواب دیتا ہے۔ پھر دونوں دوبارہ اپنی اپنی اسکرین کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ یہ معمول بظاہر معمولی لگتا ہے، لیکن سالوں بعد یہی معمول ایک بڑے فاصلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

بچوں کی خاموشی کو سمجھنا ضروری ہے

بچے ہمیشہ اپنی پریشانی الفاظ میں بیان نہیں کرتے۔ کبھی وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ کبھی اپنے کمرے میں زیادہ وقت گزارنے لگتے ہیں۔ کبھی والدین سے بات کرنے کے بجائے دوستوں یا انٹرنیٹ پر کسی اجنبی سے بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ والدین اگر اس خاموشی کو صرف بدتمیزی یا ضد سمجھیں تو مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ کبھی بچے کو ڈانٹ کی نہیں بلکہ سننے والے کان کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے فیصلہ نہ سنائے۔ اگر والدین ہر بات پر فوراً تنقید کریں گے تو بچہ آہستہ آہستہ اپنی باتیں چھپانا شروع کر دے گا۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب والدین کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہم سے کچھ شیئر نہیں کرتا۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم نے اسے کبھی کھل کر بات کرنے کا موقع دیا؟

نسلوں کے درمیان سوچ کا فرق

والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے کی ایک بڑی وجہ نسلوں کے درمیان سوچ کا فرق بھی ہے۔ والدین جس ماحول میں بڑے ہوئے، وہ آج کے ماحول سے بہت مختلف تھا۔ ان کے زمانے میں زندگی نسبتاً سادہ تھی۔ معلومات کے ذرائع محدود تھے۔ دوستوں سے رابطے کے لیے موبائل فون نہیں تھے۔ سوشل میڈیا کا وجود نہیں تھا۔ آج کے بچے ایک مختلف دنیا میں پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے لیے انٹرنیٹ معمول کی چیز ہے۔ وہ چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی حصے کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ والدین کے لیے یہ تبدیلی بعض اوقات سمجھنا مشکل ہوتی ہے۔ دوسری طرف بچے یہ سمجھتے ہیں کہ والدین ان کی دنیا کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ یہی غلط فہمی فاصلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ہر اختلاف نافرمانی نہیں ہوتا

والدین اور اولاد کے درمیان اختلاف ہونا فطری بات ہے۔ ہر اختلاف کو نافرمانی سمجھنا درست نہیں۔ بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں، ان کی اپنی رائے پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے مستقبل، تعلیم، لباس، دوستوں اور زندگی کے بارے میں فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ والدین کا کام صرف حکم دینا نہیں بلکہ رہنمائی کرنا بھی ہے۔ اگر بچہ ہر بات پر سوال کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ والدین کی عزت نہیں کرتا۔ ممکن ہے وہ صرف اپنی بات سمجھانا چاہتا ہو۔ والدین اگر ہر سوال کو گستاخی سمجھیں گے تو بچے سوال کرنا چھوڑ دیں گے۔ لیکن مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ صرف گفتگو ختم ہو جائے گی۔

ڈانٹ اور خاموشی کا خطرناک چکر

بعض گھروں میں ایک عجیب چکر چلتا رہتا ہے۔ والدین بچے کی کسی غلطی پر غصہ کرتے ہیں۔ بچہ خاموش ہو جاتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچہ ضدی ہے۔ بچہ سمجھتا ہے کہ والدین اسے سمجھتے ہی نہیں۔ پھر اگلی بار بچہ اپنی بات پہلے سے بھی زیادہ چھپاتا ہے۔ اس طرح دونوں طرف خاموشی بڑھتی جاتی ہے۔ کوئی بھی پہل نہیں کرتا۔ رشتہ موجود رہتا ہے، لیکن اس میں پہلے جیسی قربت نہیں رہتی۔

والدین کا ہر وقت نصیحت کرنا

والدین کی نصیحت محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو غلط راستے پر جاتے نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن مسلسل نصیحت بعض اوقات الٹا اثر بھی ڈالتی ہے۔ اگر ہر گفتگو کا اختتام نصیحت پر ہو تو بچہ والدین سے بات کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ بچے کو کبھی صرف سنا بھی جانا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر مسئلے کا فوری حل دیا جائے۔ بعض اوقات انسان صرف اپنے دل کی بات کہنا چاہتا ہے۔ والدین اگر پہلے سنیں اور بعد میں مشورہ دیں تو گفتگو زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

اولاد کی بھی ذمہ داری ہے

والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے کی تمام ذمہ داری والدین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اولاد کی بھی ذمہ داریاں ہیں۔

والدین نے بچوں کے لیے اپنی زندگی کے کئی سال قربان کیے ہوتے ہیں۔ ان کی محنت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بعض بچے بڑے ہو کر اپنی دنیا میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ والدین کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ انہیں والدین کی فون کال بھی مصروفیت لگتی ہے۔ یہ رویہ بعد میں بہت زیادہ پچھتاوے کا سبب بن سکتا ہے۔ والدین ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہتے۔ وقت گزر جاتا ہے۔ انسان چاہے جتنا کامیاب ہو جائے، کچھ رشتے واپس نہیں آتے۔

بوڑھے والدین کی تنہائی

والدین جب جوان ہوتے ہیں تو گھر کے زیادہ تر کام ان کے گرد گھومتے ہیں۔ بچے ان کے پاس ہوتے ہیں۔ گھر میں آوازیں ہوتی ہیں۔ مصروفیات ہوتی ہیں۔ پھر بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کے لیے باہر جاتے ہیں۔ ملازمت شروع کرتے ہیں۔ شادی کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ والدین کے گھر میں اچانک خاموشی بڑھ جاتی ہے۔ یہ خاموشی بعض اوقات بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ والدین شاید اپنی ضرورتیں کم کر لیتے ہیں، لیکن محبت کی ضرورت کم نہیں ہوتی۔ انہیں ہمیشہ مہنگی چیزیں نہیں چاہئیں۔ کبھی ایک فون کال کافی ہوتی ہے۔ کبھی چند منٹ کی ملاقات کافی ہوتی ہے۔ کبھی صرف یہ پوچھ لینا کافی ہوتا ہے کہ آپ کیسے ہیں؟

کیا بچے واقعی والدین سے دور ہو گئے ہیں؟

یہ کہنا درست نہیں کہ آج کی تمام اولاد والدین سے دور ہو گئی ہے۔ بہت سے بچے اپنے والدین سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ وہ ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ان کے علاج کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے لیے وقت بھی نکالتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں لیکن اظہار کے لیے وقت کم نکالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں الزام لگانے کے بجائے اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔

والدین کو بچوں کا دوست بننا چاہیے

والدین کا دوست ہونا یہ نہیں کہ وہ ہر بات کی اجازت دے دیں۔ والدین پھر بھی والدین رہتے ہیں۔ انہیں حدود بھی مقرر کرنی ہوتی ہیں اور غلطی پر سمجھانا بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر گھر میں ایسا ماحول ہو جہاں بچہ اپنی بات کہہ سکے تو بہت سے مسائل ابتدا ہی میں حل ہو سکتے ہیں۔ ایک بچہ اگر اپنے والد سے اپنی پریشانی بیان کر سکتا ہے تو اسے باہر کسی غلط شخص سے مدد لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔ ایک بیٹی اگر اپنی ماں سے اپنے دل کی بات کر سکتی ہے تو وہ اپنی پریشانی اندر ہی اندر نہیں پالے گی۔ رشتہ مضبوط کرنے کے لیے صرف اختیار کافی نہیں۔ اعتماد بھی ضروری ہے۔

بچوں کو وقت دیں

بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے ہمیشہ کسی خاص تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی ان کے ساتھ کھانا کھا لیں۔ کبھی ان کے ساتھ چائے پی لیں۔ کبھی ان کے ساتھ واک کر لیں۔ کبھی ان سے ان کے دوستوں کے بارے میں پوچھیں۔ اہم بات سرگرمی نہیں بلکہ توجہ ہے۔ اگر والدین بچے کے ساتھ بیٹھے ہوں لیکن مسلسل موبائل دیکھ رہے ہوں تو بچہ محسوس کرے گا کہ وہ اہم نہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین دس یا پندرہ منٹ بھی مکمل توجہ سے بچے کی بات سنیں تو یہ وقت بچے کے لیے بہت قیمتی ہو سکتا ہے۔

گھر میں موبائل فری وقت

خاندان میں روزانہ کچھ وقت ایسا ہونا چاہیے جب موبائل فون ایک طرف رکھ دیے جائیں۔ کھانے کا وقت اس کے لیے بہترین موقع ہو سکتا ہے۔ اس دوران سب ایک دوسرے سے بات کریں۔ اسی طرح رات کو سونے سے پہلے کچھ وقت خاندان کے لیے مخصوص کیا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی گھر کے ماحول کو بہت بہتر بنا سکتی ہے۔ ابتدا میں بچوں کو یہ پابندی پسند نہیں آئے گی۔ شاید والدین کو بھی مشکل محسوس ہو۔ لیکن کچھ دن بعد سب کو اس فرق کا احساس ہونے لگے گا۔

والدین بھی اپنی غلطیوں کو دیکھیں

والدین سے غلطی ہو سکتی ہے۔ یہ حقیقت قبول کرنا ضروری ہے۔ کبھی والدین غصے میں ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو بچے کے دل میں برسوں رہ جاتی ہے۔ کبھی کسی دوسرے بچے سے موازنہ کر دیتے ہیں۔ کبھی بچے کی کوشش کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعد میں والدین کو شاید وہ بات یاد بھی نہ ہو، لیکن بچے کے لیے وہ لمحہ بہت اہم ہو سکتا ہے۔ اس لیے والدین کو بھی کبھی کبھی اپنے بچوں سے معذرت کرنی چاہیے۔ معذرت کرنے سے والدین کی عزت کم نہیں ہوتی۔ بلکہ بچے کے دل میں ان کی قدر بڑھ سکتی ہے۔

بچوں کو بھی والدین کو سمجھنا ہوگا

اسی طرح اولاد کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ والدین ہر وقت درست نہیں ہو سکتے۔ وہ بھی انسان ہیں۔ وہ بھی تھکتے ہیں۔ انہیں بھی پریشانی ہوتی ہے۔ والدین کی ہر بات پسند نہ آئے تو بھی احترام کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اونچی آواز، بدتمیزی اور تحقیر کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر اولاد چاہتی ہے کہ والدین اسے سمجھیں تو اسے بھی والدین کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رشتے ایک طرفہ کوشش سے مضبوط نہیں ہوتے۔

اعتماد کیسے بحال کیا جائے؟

اگر والدین اور اولاد کے درمیان پہلے ہی فاصلہ پیدا ہو چکا ہے تو اسے ختم کرنے کے لیے وقت لگ سکتا ہے۔ ایک دن کی گفتگو سے کئی سال کی خاموشی ختم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مستقل مزاجی ضروری ہے۔ والدین بچے کو بار بار یہ احساس دیں کہ وہ اس کے ساتھ ہیں۔ اولاد بھی والدین سے رابطہ بڑھائے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرنا شروع کریں۔ آہستہ آہستہ اعتماد واپس آ سکتا ہے۔

رشتوں میں موازنہ نہ کریں

والدین اکثر اپنے بچوں کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ “دیکھو فلاں کا بیٹا کہاں پہنچ گیا ہے۔” “دیکھو فلاں کی بیٹی کتنی سمجھدار ہے۔” ایسی باتیں شاید والدین اصلاح کے لیے کہتے ہیں، لیکن بچے کے دل پر برا اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہر انسان کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ ہر بچے کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ حوصلہ افزائی بچے کو آگے بڑھاتی ہے۔ مسلسل موازنہ اسے اندر سے توڑ سکتا ہے۔

محبت کا اظہار ضروری ہے

ہم میں سے بہت سے لوگ محبت تو کرتے ہیں لیکن اظہار نہیں کرتے۔ والدین سوچتے ہیں کہ بچوں کو معلوم ہے کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ بچے بھی سوچتے ہیں کہ والدین جانتے ہیں کہ ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن دل کی بات زبان سے کہنا بھی ضروری ہے۔ کبھی والدین اپنے بچے سے کہیں کہ “مجھے تم پر فخر ہے۔” کبھی اولاد اپنے والدین سے کہے کہ “آپ نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ “ ایسے الفاظ گھر کے ماحول کو بدل سکتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات اور والدین کا مقام

اسلام نے والدین کے مقام کو بہت بلند رکھا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ ایک معمولی اخلاقی معاملہ نہیں بلکہ بہت اہم ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں والدین کے سامنے “اُف” تک نہ کہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس تعلیم میں صرف الفاظ کی پابندی نہیں بلکہ رویے کی تربیت بھی موجود ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نرمی، احترام اور محبت سے پیش آئے۔ اسی طرح والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عدل، محبت اور شفقت کا رویہ اختیار کریں۔ بچے اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری ہیں۔ ان کی صرف جسمانی ضروریات پوری کرنا کافی نہیں۔ ان کی تربیت، کردار اور جذباتی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

ہر گھر کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے

والدین اور اولاد دونوں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ والدین بچوں کو زندگی کا تجربہ دیتے ہیں۔ بچے والدین کو زندگی میں نئی خوشی دیتے ہیں۔ والدین ماضی سے جڑے ہوتے ہیں۔ بچے مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔ دونوں نسلوں کے درمیان فرق ہونا فطری ہے۔ مسئلہ فرق نہیں۔ مسئلہ رابطے کا ختم ہو جانا ہے۔ اگر گفتگو جاری رہے تو اختلاف بھی برداشت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب گفتگو ختم ہو جائے تو معمولی اختلاف بھی بڑے فاصلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

فاصلے کو ابھی ختم کیا جا سکتا ہے

اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اور آپ کے والدین یا بچوں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے تو انتظار نہ کریں۔ پہلا قدم اٹھانے کے لیے کسی دوسرے کا انتظار نہ کریں۔ والدین اپنے بچے کو فون کر سکتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کے پاس بیٹھ سکتے ہیں۔ ایک کپ چائے بہت سی خاموشیاں توڑ سکتی ہے۔ ایک مختصر فون کال بہت سی غلط فہمیاں ختم کر سکتی ہے۔ ایک معذرت کئی سال کی ناراضی کم کر سکتی ہے۔ رشتوں کو بچانے کے لیے ہمیشہ بڑے اقدامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات چھوٹی سی کوشش ہی کافی ہوتی ہے۔

نتیجہ

والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہ فاصلہ صرف موبائل فون یا جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بڑھ رہا۔ اس کے پیچھے وقت کی کمی، نسلوں کا فرق، غلط فہمیاں، مسلسل مصروفیت، سخت رویے اور گفتگو کی کمی بھی شامل ہیں۔ موبائل فون نے اس فاصلے کو ضرور بڑھایا ہے، لیکن اسے کم کرنے کی طاقت بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم چاہیں تو وہی موبائل فون رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک فون کال والدین کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہے۔ ایک پیغام کسی ناراض رشتے کو دوبارہ قریب لا سکتا ہے۔ ہمیں صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہماری زندگی میں ٹیکنالوجی زیادہ اہم ہے یا ہمارے رشتے۔ والدین ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ بچے بھی ہمیشہ چھوٹے نہیں رہیں گے۔ وقت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ آج جو شخص ہمارے پاس بیٹھا ہے، ممکن ہے کل ہمارے پاس نہ ہو۔ اس لیے رشتوں کو کل پر نہ چھوڑیں۔ اگر والدین پاس ہیں تو ان کے پاس بیٹھیں۔ اگر اولاد پاس ہے تو اس کی بات سنیں۔ موبائل ایک طرف رکھیں۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ گھر میں دوبارہ گفتگو شروع کریں۔ کیونکہ ایک گھر صرف دیواروں، کمروں اور سامان سے نہیں بنتا۔ گھر ان لوگوں سے بنتا ہے جو ایک دوسرے کے لیے وقت نکالتے ہیں، ایک دوسرے کو سنتے ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں۔ اور شاید آج ہمارے گھروں کو سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہے۔

 

6 Comments

  • Faiza

    Very balanced topic. We all have to understand the value of relations, to make our individual and family life better.

  • Khola

    💯

  • Mubashar Ahmad Shahid

    Excellent

    • Thanks for your comments. Please keep visting for more updates

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

© 2024 Created by GoodToBest