تنخواہ آتے ہی ختم ہو جاتی ہے؟ 5 فیصد بچت سے اپنا ماہانہ بجٹ سنبھالیں

تنخواہ آتے ہی ختم ہو جاتی ہے؟ مہینے کی پہلی تاریخ کو اکاؤنٹ میں رقم آتے ہی کچھ دنوں کے لیے سب کچھ ٹھیک لگتا ہے، لیکن پھر گھر کے خرچے، بل، راشن، بچوں کی ضرورتیں، پٹرول، موبائل، باہر کا کھانا اور اچانک آنے والے اخراجات مل کر معلوم نہیں کب پوری تنخواہ کو ختم کر دیتے ہیں۔ مہینے کے آخری دنوں میں آدمی یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر اتنے سارے پیسے گئے کہاں؟ ایسے میں ہر خرچ ختم کرنا ضروری نہیں۔ صرف تنخواہ کا 5 فیصد شروع ہی میں الگ کر لینا اور باقی رقم کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ماہانہ بجٹ کو کافی حد تک قابو میں رکھنے کی ایک سادہ عادت بن سکتی ہے۔

مسئلہ کم تنخواہ ہے یا خرچ کرنے کا طریقہ؟

یہ سوال ہر شخص کے لیے مختلف جواب رکھتا ہے۔ کچھ لوگوں کی آمدنی واقعی ان کے ضروری اخراجات کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جبکہ کچھ لوگ مناسب آمدنی کے باوجود مہینے کے آخر میں مشکل میں آ جاتے ہیں۔

اصل مسئلہ کئی مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی ماہانہ آمدنی کا تو بالکل درست علم ہوتا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں سے کتنی رقم کس کام پر خرچ ہو رہی ہے۔

گھر کا کرایہ یا قسط، بجلی کا بل، گیس، راشن اور بچوں کی فیس جیسے اخراجات تو ذہن میں رہتے ہیں۔ لیکن راستے میں لی گئی چائے، دفتر سے واپسی پر کچھ کھا لینا، موبائل پر کوئی چیز خرید لینا یا آن لائن آرڈر کر دینا الگ سے بہت بڑا خرچ محسوس نہیں ہوتا۔

مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب ایسے چھوٹے خرچے پورے مہینے میں بار بار ہوتے رہیں۔

مہینے کے آخر میں بچت کیوں نہیں ہو پاتی؟

بچت کے بارے میں ایک عام سوچ یہ ہے کہ پہلے سارے اخراجات کر لیے جائیں اور جو رقم آخر میں بچے گی اسے محفوظ کر لیا جائے۔

یہ طریقہ سننے میں ٹھیک لگتا ہے، لیکن عملی زندگی میں اکثر کام نہیں کرتا۔

کیونکہ جب رقم اکاؤنٹ میں موجود ہو تو ہمیں لگتا ہے کہ ابھی خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔ ایک ضروری چیز کے ساتھ ایک غیر ضروری چیز بھی آ جاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا آن لائن آرڈر، پھر باہر کھانا، پھر کسی دعوت کا خرچ اور دیکھتے ہی دیکھتے مہینے کے آخری دن آ جاتے ہیں۔

اس لیے بچت کو مہینے کے آخر کی بچی ہوئی رقم بنانے کے بجائے تنخواہ ملنے کے وقت ہی الگ کرنا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔

5 فیصد کا اصول کہاں سے شروع کریں؟

یہ اصول بہت سادہ ہے۔

جب تنخواہ آئے تو سب سے پہلے اس کا 5 فیصد الگ کر دیں۔ اسے اپنی عام خرچ ہونے والی رقم کا حصہ نہ سمجھیں۔

مثلاً اگر ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے ہے تو 5 فیصد صرف 2500 روپے بنتے ہیں۔

60 ہزار روپے کی تنخواہ ہو تو 3 ہزار روپے۔

80 ہزار روپے ہوں تو 4 ہزار روپے۔

ایک لاکھ روپے کی تنخواہ ہو تو 5 ہزار روپے۔

رقم اپنی جگہ اہم ہے، لیکن یہاں اصل مقصد ایک عادت بنانا ہے۔ اگر ہر ماہ تنخواہ آتے ہی تھوڑی رقم الگ ہونے لگے تو چند مہینوں بعد بچت کرنا ایک مشکل کام کے بجائے معمول کا حصہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

پہلے بچت، پھر خرچ

اس اصول کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ ہے: جو بچانا ہے، وہ پہلے بچائیں۔

اگر آپ کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے اور آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ 5 ہزار روپے بچانے ہیں تو اپنے ذہن میں یہ نہ رکھیں کہ آپ کے پاس پورے ایک لاکھ روپے خرچ کرنے کے لیے موجود ہیں۔

پہلے 5 ہزار روپے الگ کریں۔ اب آپ کا اصل ماہانہ بجٹ 95 ہزار روپے ہے۔

یہ معمولی سا فرق ذہن کو بھی ایک حد دے دیتا ہے۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ پورا مہینہ اسی رقم میں گزارنا ہے۔

ہر چھوٹا خرچ مسئلہ نہیں، لیکن ہر چھوٹا خرچ مل کر بڑا بن سکتا ہے

کسی ایک کپ چائے یا ایک معمولی آن لائن خریداری کو دیکھ کر یہ کہنا مناسب نہیں کہ یہی تنخواہ ختم ہونے کی وجہ ہے۔

مسئلہ ایک خرچ نہیں بلکہ بار بار ہونے والے غیر محسوس اخراجات ہیں۔

مثلاً روزانہ 200 روپے کسی چھوٹی چیز پر خرچ ہوں تو ایک دن میں یہ رقم بہت معمولی لگ سکتی ہے۔ لیکن پورے مہینے میں یہی رقم تقریباً 6 ہزار روپے بن سکتی ہے۔

اسی لیے بجٹ بناتے وقت صرف بڑے اخراجات نہیں دیکھنے چاہییں۔ کبھی کبھی اصل تصویر چھوٹے اخراجات کو ایک جگہ جمع کرنے کے بعد سامنے آتی ہے۔

ایک مہینے کے لیے اپنے خرچ لکھ کر دیکھیں

اگر آپ کو واقعی سمجھ نہیں آ رہی کہ تنخواہ کہاں خرچ ہو جاتی ہے تو ایک آسان تجربہ کریں۔

صرف ایک مہینے کے لیے ہر خرچ لکھیں۔

موبائل کے نوٹس میں لکھ سکتے ہیں، کسی کاپی میں لکھ سکتے ہیں یا اپنی پسند کی کوئی سادہ ایپ استعمال کر سکتے ہیں۔ طریقہ اہم نہیں، مستقل مزاجی اہم ہے۔

چائے کے 150 روپے ہوں یا راشن کے 8 ہزار روپے، سب لکھیں۔

مہینے کے آخر میں اس فہرست کو دیکھیں۔ ممکن ہے آپ کو کچھ ایسے اخراجات نظر آئیں جنہیں آپ عام طور پر اہم ہی نہیں سمجھتے تھے۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں بجٹ بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔

کھانے پینے کا خرچ بھی بجٹ کا حصہ ہے

پاکستان میں کھانے پینے کا خرچ بہت سے گھروں کے بجٹ میں اہم جگہ رکھتا ہے۔ گھر کا راشن تو اپنی جگہ، لیکن دفتر میں چائے، دوستوں کے ساتھ کھانا، بیکری سے کچھ لے لینا یا موبائل سے فوڈ آرڈر کرنا بھی ماہانہ خرچ میں شامل ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ باہر کا کھانا بالکل چھوڑ دیا جائے۔

اگر آپ ہفتے میں چار مرتبہ باہر کھانا کھاتے ہیں تو شاید تین مرتبہ کرنا ہی ایک عملی تبدیلی ہو۔ اگر روزانہ کسی جگہ سے کچھ خریدتے ہیں تو ہفتے میں ایک دو دن گھر سے لے جانا بھی فرق ڈال سکتا ہے۔

چھوٹی تبدیلیاں زیادہ دیر تک چل سکتی ہیں کیونکہ ان میں زندگی کو مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ڈسکاؤنٹ ہمیشہ بچت نہیں ہوتا

آن لائن خریداری کے دوران 30 فیصد، 40 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ڈسکاؤنٹ دیکھ کر فوراً خریدنے کا دل کرتا ہے۔

لیکن ایک سوال ضرور پوچھیں: اگر ڈسکاؤنٹ نہ ہوتا تو کیا میں یہ چیز خریدتا؟

اگر جواب نہیں ہے تو ممکن ہے آپ نے پیسے بچانے کے بجائے خرچ کیے ہوں۔

ضرورت کی چیز کم قیمت میں مل جائے تو یقیناً فائدہ ہے۔ لیکن صرف رعایت دیکھ کر غیر ضروری چیز خریدنا ماہانہ بجٹ کے لیے فائدہ مند نہیں۔

ماہانہ سبسکرپشنز کا بھی جائزہ لیں

کئی مرتبہ ہمارے اخراجات میں ایسی چھوٹی ماہانہ ادائیگیاں شامل ہوتی ہیں جن پر ہم زیادہ غور نہیں کرتے۔

موبائل پیکیج، مختلف آن لائن سروسز، ایپس یا دوسری سبسکرپشنز میں سے کچھ ایسی بھی ہو سکتی ہیں جنہیں ہم بہت کم استعمال کرتے ہیں۔

مہینے میں ایک مرتبہ اپنے بینک اکاؤنٹ یا کارڈ سے ہونے والی ایسی ادائیگیوں کو دیکھ لیں۔ جو سروس واقعی استعمال نہیں ہو رہی، اسے جاری رکھنے کی ضرورت نہیں۔

ایک چھوٹی ماہانہ ادائیگی شاید زیادہ محسوس نہ ہو، لیکن سال بھر میں اس کی رقم کافی بن سکتی ہے۔

5 فیصد بچت کو الگ رکھیں

بچت کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ جو رقم آپ نے الگ کی ہے اسے روزمرہ کے خرچ والے اکاؤنٹ سے الگ رکھا جائے۔

اگر بچت اور خرچ دونوں ایک ہی جگہ ہوں تو ضرورت کے نام پر بچت استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اگر ممکن ہو تو 5 فیصد رقم کسی الگ محفوظ جگہ رکھیں اور اسے عام ماہانہ بجٹ کا حصہ نہ بنائیں۔

اس رقم کا مقصد ہر مہینے کی خریداری، کھانے یا تفریح کے لیے دستیاب رقم بڑھانا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک چھوٹا مالی سہارا بنانا ہے۔

اگر 5 فیصد بچانا بھی مشکل ہو تو؟

ہر گھر کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔

کسی شخص کی تنخواہ مناسب ہوتی ہے لیکن گھر میں افراد زیادہ ہوتے ہیں۔ کسی کے بچوں کی فیس زیادہ ہوتی ہے، کسی کی آمدنی کا بڑا حصہ سفر میں خرچ ہوتا ہے اور کسی کے ذمہ والدین یا دوسرے گھر والوں کی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں 5 فیصد کو ایک سخت شرط سمجھنے کے بجائے ایک ہدف سمجھا جا سکتا ہے۔

اگر ابھی 5 فیصد ممکن نہیں تو 2 فیصد سے شروع کریں۔ پھر حالات بہتر ہونے پر اسے 3 فیصد اور آخرکار 5 فیصد تک لے جائیں۔

بچت میں مستقل مزاجی، صرف بڑی رقم سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔

اچانک خرچ کے لیے بھی کچھ رقم چاہیے

زندگی ہر مہینے ایک جیسی نہیں رہتی۔

کبھی گاڑی خراب ہو جاتی ہے، کبھی گھر کی کوئی ضروری چیز جواب دے جاتی ہے، کبھی اچانک سفر کرنا پڑ جاتا ہے اور کبھی ایسا خرچ آ جاتا ہے جس کا پہلے سے اندازہ نہیں ہوتا۔

اگر ہر مہینے کی آمدنی پہلے ہی مکمل طور پر خرچ ہو رہی ہو تو ایسے موقع پر پریشانی بڑھ سکتی ہے۔

اسی لیے بچت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر غیر متوقع خرچ فوراً ادھار لینے کی وجہ نہ بنے۔

تنخواہ بڑھنے کا انتظار نہ کریں

اکثر ہم سوچتے ہیں کہ جب تنخواہ کچھ بڑھ جائے گی تو بچت شروع کریں گے۔

لیکن آمدنی بڑھنے کے ساتھ اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ پہلے جو چیزیں ضرورت سے باہر لگتی تھیں، وہ بعد میں معمول کا حصہ بن جاتی ہیں۔

اس لیے اگر موجودہ آمدنی میں تھوڑی سی بچت کی عادت بن جائے تو مستقبل میں آمدنی بڑھنے پر اس عادت کو مزید مضبوط کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

مثلاً اگر آج آپ 3 ہزار روپے ماہانہ بچا رہے ہیں اور مستقبل میں آمدنی بڑھتی ہے تو بچت میں بھی کچھ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

بجٹ بہت پیچیدہ بنانے کی ضرورت نہیں

کچھ لوگ بجٹ کا نام سنتے ہی لمبی فہرستیں اور مشکل حساب کتاب سوچنے لگتے ہیں۔

حقیقت میں ایک سادہ ماہانہ بجٹ بھی کافی ہو سکتا ہے۔

تنخواہ آتے ہی پہلے 5 فیصد بچت الگ کریں۔ اس کے بعد گھر کے لازمی اخراجات نکالیں۔ پھر راشن، سفر، بچوں اور دیگر باقاعدہ ضروریات کا حساب رکھیں۔ آخر میں تفریح اور غیر ضروری خریداری کے لیے وہی رقم استعمال کریں جو واقعی دستیاب ہو۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو رقم موجود نہیں، اسے خرچ کرنے کا منصوبہ نہ بنایا جائے۔

80 ہزار کی تنخواہ کی ایک سادہ مثال

فرض کریں کسی شخص کی ماہانہ آمدنی 80 ہزار روپے ہے۔

وہ تنخواہ ملتے ہی 4 ہزار روپے الگ رکھ دیتا ہے۔ اب اس کے پاس 76 ہزار روپے رہ جاتے ہیں۔

اگر وہ پورے سال یہی معمول جاری رکھے اور بچت کو استعمال نہ کرے تو 12 ماہ میں 48 ہزار روپے جمع ہو سکتے ہیں۔

یہ رقم کسی شخص کی پوری مالی زندگی تبدیل کرنے کے لیے کافی ہو، یہ ضروری نہیں۔ لیکن یہ اس وقت ایک مفید سہارا بن سکتی ہے جب اچانک کوئی خرچ سامنے آ جائے۔

اس مثال کا اصل مقصد رقم نہیں بلکہ عادت کو سمجھنا ہے۔ مستقل طور پر تھوڑی رقم الگ رکھنے سے انسان کو اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔

بجٹ کا مطلب ہر خوشی چھوڑ دینا نہیں

بجٹ بناتے ہوئے ایک غلطی یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اتنا محدود کر دیتا ہے کہ چند ہی ہفتوں بعد پورا منصوبہ چھوڑ دیتا ہے۔

اگر ہر ماہ دوستوں کے ساتھ ایک کھانا آپ کے لیے خوشی کا باعث ہے تو اسے بجٹ میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی خاندان کے ساتھ باہر جانا پسند ہے تو اس کے لیے بھی کچھ رقم رکھی جا سکتی ہے۔

بجٹ کا مقصد زندگی کو بے رنگ بنانا نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ خوشی کے لیے خرچ کرتے وقت بعد میں ضروری اخراجات کے لیے پریشانی نہ ہو۔

اصل کامیابی رقم نہیں، عادت ہے

5 فیصد بچت بظاہر ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ شروع میں شاید آپ کو لگے کہ اس سے کیا فرق پڑے گا۔

لیکن مالی معاملات میں ہر تبدیلی ایک بڑی رقم سے شروع نہیں ہوتی۔

کبھی فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ تنخواہ آنے کے بعد انسان نے پہلی مرتبہ اپنی مستقبل کی ضرورت کو بھی موجودہ خرچ جتنی اہمیت دی۔

اگر تنخواہ آتے ہی ختم ہو جاتی ہے تو اگلے مہینے کوئی بہت بڑا فیصلہ کرنے کے بجائے صرف ایک تبدیلی کرکے دیکھیں۔ تنخواہ ملتے ہی 5 فیصد الگ کریں، ایک مہینے کے لیے اپنے چھوٹے بڑے اخراجات لکھیں اور مہینے کے آخر میں دیکھیں کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے۔

ممکن ہے آپ کو اپنے خرچ کرنے کے انداز کے بارے میں وہ چیزیں نظر آ جائیں جن کا پہلے کبھی اندازہ نہیں ہوا تھا۔ اور شاید یہی چھوٹی سی سمجھ بوجھ اگلے مہینے کے بجٹ کو پچھلے مہینے سے کچھ بہتر بنانے کے لیے کافی ہو۔

6 Comments

  • Faiza

    Good topic and effective information.

    • Thank you for your comments. Please keep visiting for more updates

  • Mubashar Ahmad Shahid

    Wonderful

    • Thanks for your comments plese keep visiting for more updates

  • Khola

    👍🏻

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

© 2024 Created by GoodToBest