کل کی فکر میں آج مت کھو دینا

زندگی عجیب چیز ہے۔ جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ہمیں جلدی بڑا ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو اپنی مرضی سے زندگی گزاریں گے، اپنے فیصلے کریں گے اور ہر وہ کام کریں گے جس سے آج ہمیں روکا جاتا ہے۔ پھر ہم بڑے ہو جاتے ہیں اور اچانک احساس ہوتا ہے کہ بچپن کے وہ دن کتنے خوبصورت تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کاش وہ وقت دوبارہ واپس آ جائے، مگر وقت کبھی پیچھے نہیں آتا۔ پھر جوانی آتی ہے تو ہمارے خواب بہت بڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ پہلے کچھ بن جائیں، پیسے کما لیں، اپنا گھر بنا لیں، کاروبار کامیاب کر لیں، بچوں کا مستقبل محفوظ کر لیں، پھر سکون سے زندگی گزاریں گے۔ ہم آج کی خوشی کو کل کے نام کر دیتے ہیں اور یہی سوچتے سوچتے زندگی کا ایک بڑا حصہ گزر جاتا ہے۔

مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ کل جب آتا ہے تو وہ بھی آج ہی بن جاتا ہے، اور ہم اسے بھی کسی آنے والے کل کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک مقصد حاصل ہوتا ہے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے، ایک پریشانی ختم ہوتی ہے تو نئی پریشانی شروع ہو جاتی ہے اور ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو انسان کے دل میں ایک اور خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ یوں ہم مستقبل بنانے کی کوشش میں حال کو بھولتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ احساس بہت دیر سے ہوتا ہے کہ جس زندگی کو ہم کبھی “بعد میں” جینے کا سوچ رہے تھے، وہ زندگی تو ہر روز ہمارے سامنے سے گزر رہی تھی۔

آج بھی زندگی ہے

ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اصل زندگی کل میں نہیں بلکہ آج میں ہے۔ کل ابھی آیا نہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ ہمارے لیے کیا لے کر آئے گا۔ ہوسکتا ہے حالات بہتر ہو جائیں، کوئی بڑا خواب پورا ہو جائے، کاروبار میں کامیابی مل جائے یا وہ موقع مل جائے جس کا برسوں سے انتظار ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ زندگی ہمارے منصوبوں کے مطابق نہ چلے۔ مستقبل کے بارے میں امید رکھنا اچھی بات ہے، مگر مستقبل کو یقینی سمجھ لینا ہماری سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے۔

ہمارے پاس اس وقت جو دن ہے، جو لوگ ہمارے آس پاس ہیں، جو گھر ہمارے پاس ہے، جو رشتے ہمارے ساتھ ہیں اور جو سانسیں ہمیں ملی ہوئی ہیں، یہی ہماری حقیقی زندگی ہے۔ پھر بھی ہم اکثر جسمانی طور پر آج میں موجود ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر یا تو گزرے ہوئے کل میں ہوتے ہیں یا آنے والے کل کی فکر میں۔ کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ماضی میں وہ فیصلہ مختلف ہوتا تو زندگی کتنی اچھی ہوتی، اور کبھی یہ سوچ کر پریشان ہوتے ہیں کہ اگر مستقبل میں حالات خراب ہو گئے تو کیا ہوگا۔ اس دوران آج خاموشی سے گزر جاتا ہے اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔

ہم کل کے لیے کیا کچھ چھوڑ دیتے ہیں

ہم اپنی زندگی میں بہت سی خوشیاں صرف اس لیے مؤخر کر دیتے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے ان کے لیے ابھی صحیح وقت نہیں آیا۔ ہم کہتے ہیں کہ ابھی کام بہت ہے، بعد میں آرام کریں گے۔ ابھی پیسے کم ہیں، بعد میں گھومنے جائیں گے۔ ابھی ذمہ داریاں بہت ہیں، بعد میں اپنے لیے وقت نکالیں گے۔ ابھی بچے چھوٹے ہیں، بعد میں ان کے ساتھ بیٹھیں گے۔ ابھی کاروبار سنبھالنا ہے، بعد میں دوستوں سے ملیں گے۔ ابھی حالات ٹھیک نہیں، بعد میں خوش ہوں گے۔ یہ “بعد میں” بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے، لیکن کبھی کبھی پوری زندگی اسی ایک لفظ میں گزر جاتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی میں ہر چیز کے لیے بہترین وقت کا انتظار کرتے رہنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ بعض اوقات حالات کبھی مکمل طور پر سازگار نہیں ہوتے۔ ذمہ داریاں ہمیشہ رہتی ہیں، کام ہمیشہ رہتا ہے اور زندگی میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اگر ہم سکون، خوشی، محبت اور اپنوں کے لیے وقت صرف اس وقت نکالیں گے جب تمام مسائل ختم ہو جائیں، تو شاید وہ وقت کبھی نہ آئے۔ زندگی مسائل کے ختم ہونے کا نام نہیں، بلکہ مسائل کے درمیان بھی کچھ خوبصورت لمحے تلاش کرنے کا نام ہے۔

ابھی بہت وقت ہے

“ابھی تو بہت وقت ہے” شاید زندگی کے سب سے خطرناک جملوں میں سے ایک ہے۔ ہم اسے معمولی سمجھ کر بار بار بولتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے جو کام آج نہیں کیا، کل کر لیں گے۔ جس شخص سے آج بات نہیں ہوئی، کل فون کر لیں گے۔ جس دوست سے ملنا ہے، اگلے ہفتے مل لیں گے۔ جس خواب کو شروع کرنا ہے، اگلے مہینے شروع کر دیں گے۔ جس ناراضی کو ختم کرنا ہے، کچھ دن بعد بات کر لیں گے۔ ہمیں ہر کام کے لیے ایک آنے والا دن نظر آتا رہتا ہے۔

لیکن وقت ہمارے ارادوں کا انتظار نہیں کرتا۔ دن مہینوں میں بدلتے ہیں، مہینے سالوں میں بدل جاتے ہیں اور پھر ایک دن ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ اتنا وقت گزر بھی گیا۔ جس کل کا انتظار ہم نے چند دن کے لیے کیا تھا، وہ کئی سال پہلے آج بن کر گزر چکا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں وقت نہیں ملا، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے موجود وقت کو ہمیشہ آنے والے وقت سے کم اہم سمجھا۔

بچوں کا بچپن انتظار نہیں کرتا

والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچے اچھی تعلیم حاصل کریں، کامیاب ہوں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور زندگی میں کسی کے محتاج نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے والدین اپنی خواہشیں قربان کرتے ہیں، زیادہ کام کرتے ہیں، پیسے بچاتے ہیں اور کئی مرتبہ اپنی آرام دہ زندگی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ محبت اپنی جگہ بہت خوبصورت ہے، لیکن کبھی کبھی مستقبل کی فکر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بچوں کا آج ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

بچہ شاید آپ سے دنیا کی کوئی بڑی چیز نہیں مانگ رہا۔ ہوسکتا ہے وہ صرف یہ چاہتا ہو کہ آپ کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھیں، اس کی بات سنیں، اس کے سوال کا جواب دیں یا اس کی چھوٹی سی خوشی میں شریک ہوں۔ آج جو بچہ آپ کے ساتھ کھیلنے کے لیے بے چین ہے، کچھ سال بعد وہ اپنی پڑھائی، ملازمت اور اپنی دنیا میں مصروف ہو جائے گا۔ آج جو بچہ آپ کی انگلی پکڑ کر چل رہا ہے، کل وہ خود اپنے راستے تلاش کر رہا ہوگا۔ اس لیے بچوں کا مستقبل ضرور بنائیں، لیکن ان کا بچپن مستقبل کے نام مت کریں۔

اپنوں کے لیے وقت نکالنا

ہم اکثر اجنبی لوگوں کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر اپنے لوگوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ فون پر گھنٹوں گزار دیتے ہیں، سوشل میڈیا دیکھتے رہتے ہیں، دوسروں کی زندگیوں کے بارے میں جانتے رہتے ہیں، لیکن گھر میں موجود کسی اپنے کے پاس بیٹھنے کے لیے چند منٹ بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے اپنے تو ہمیشہ موجود رہیں گے، اس لیے ان کے لیے وقت بعد میں بھی نکالا جا سکتا ہے۔

مگر زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض اوقات لوگ اچانک ہماری زندگی سے دور ہو جاتے ہیں اور ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ آخری ملاقات کون سی تھی اور آخری گفتگو کون سی تھی۔ بعد میں ہمیں ان کی کمی محسوس ہوتی ہے اور دل میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ کاش میں اس وقت کچھ دیر ان کے پاس بیٹھ جاتا۔ شاید اسی لیے اپنوں کے لیے وقت نکالنے کا بہترین وقت آج ہے۔ کل کا انتظار کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ آج ہمارے پاس کون ہے۔

محبت کا اظہار آج کر دو

ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے دل میں محبت رکھتے ہیں مگر اسے الفاظ میں بیان نہیں کرتے۔ ہمیں لگتا ہے سامنے والا خود جانتا ہے کہ ہم اسے چاہتے ہیں، اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کی موجودگی ہمارے لیے اہم ہے۔ لیکن محبت صرف محسوس کرنے کا نام نہیں، کبھی کبھی اسے ظاہر کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا جملہ کسی انسان کے دل کو وہ سکون دے سکتا ہے جو شاید اسے برسوں سے نہیں ملا۔

اگر کسی کی قدر کرتے ہیں تو آج بتا دیں۔ اگر کسی نے آپ کے لیے کچھ اچھا کیا ہے تو آج شکریہ ادا کر دیں۔ اگر کسی سے محبت ہے تو اسے محسوس ہونے دیں۔ اگر کسی سے ناراض ہیں لیکن دل میں اب بھی اس کے لیے جگہ موجود ہے تو اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر بات کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے پاس کسی شخص کے ساتھ کتنے دن باقی ہیں، اس لیے اچھی بات کو دل میں رکھنے کے بجائے وقت پر کہہ دینا زیادہ بہتر ہے۔

ہر چیز کامل ہونے کا انتظار مت کرو

ہم اکثر زندگی کو کامل حالات کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں جب پیسے زیادہ ہوں گے تو سفر کریں گے، جب گھر بن جائے گا تو سکون کریں گے، جب کاروبار بہتر ہوگا تو آرام کریں گے، جب ذمہ داریاں کم ہوں گی تو اپنے لیے وقت نکالیں گے۔ لیکن زندگی میں ذمہ داریاں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔ ایک ذمہ داری ختم ہوتی ہے تو دوسری سامنے آ جاتی ہے اور انسان ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔

اسی لیے ہر خوشی کے لیے بہترین حالات کا انتظار کرنا ضروری نہیں۔ کبھی چائے کا ایک کپ، کسی دوست سے چند منٹ کی گفتگو، گھر والوں کے ساتھ کھانا، چھت پر بیٹھ کر ٹھنڈی ہوا محسوس کرنا یا شام کے وقت چند قدم چل لینا بھی زندگی کی خوبصورت خوشیوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ہم بڑی خوشیوں کے انتظار میں چھوٹی خوشیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اکثر زندگی کی اصل خوبصورتی انہی چھوٹے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے۔

مستقبل کی فکر کہاں تک؟

مستقبل کے بارے میں سوچنا غلط نہیں۔ انسان کو اپنے آنے والے دنوں کے لیے منصوبہ بنانا چاہیے۔ بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، کاروبار، صحت، بچت اور دوسری ذمہ داریوں کے بارے میں سوچنا زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ مسئلہ مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں بلکہ مستقبل کی ایسی فکر ہے جو آج کا سکون چھین لے۔

اگر کل کی فکر آج کی نیند ختم کر دے، اگر آنے والے دن کا خوف آج کی خوشی ختم کر دے اور اگر مستقبل کے اندیشے ہمیں موجودہ زندگی سے لطف اٹھانے نہ دیں تو پھر ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ ہم مستقبل کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ہم صرف اپنی طرف سے کوشش کر سکتے ہیں۔ باقی بہت سی چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ اس لیے مستقبل کے لیے تیاری ضرور کریں، مگر مستقبل کے خوف میں آج کو مت کھو دیں۔

ماضی کو بھی ساتھ لے کر مت چلو

کچھ لوگ آنے والے کل کی فکر میں نہیں بلکہ گزرے ہوئے کل کے دکھ میں آج کھو دیتے ہیں۔ کسی نے دھوکا دیا، کسی نے چھوڑ دیا، کاروبار میں نقصان ہوا، کوئی فیصلہ غلط ہو گیا یا کسی رشتے میں ایسی تلخی پیدا ہوئی جسے بھلانا مشکل ہے۔ انسان بار بار اسی واقعے کو ذہن میں دہراتا رہتا ہے اور سوچتا ہے کہ اگر میں نے اس وقت دوسرا فیصلہ کیا ہوتا تو آج میری زندگی مختلف ہوتی۔

لیکن ماضی کے سوالوں کا کوئی آخری جواب نہیں ہوتا۔ جو ہو چکا، وہ ہو چکا۔ ہم ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن آج کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ ماضی سے سبق لینا سمجھ داری ہے، مگر ہر روز اسی ماضی میں رہنا اپنے موجودہ وقت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ زندگی ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے اور ہم پیچھے دیکھتے رہتے ہیں۔ کبھی ہمیں پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے سامنے کا راستہ بھی دیکھنا چاہیے۔

وقت کبھی واپس نہیں آتا

پیسے کا نقصان ہو جائے تو انسان دوبارہ کما سکتا ہے۔ کاروبار ختم ہو جائے تو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ گھر بدل جائے تو نیا گھر بنایا جا سکتا ہے۔ بہت سی چیزیں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن وقت واپس نہیں آتا۔ جو دن گزر گیا وہ دوبارہ نہیں ملے گا، جو لمحہ گزر گیا وہ دوبارہ نہیں آئے گا اور جو عمر گزر گئی اسے واپس لانے کا کوئی طریقہ نہیں۔

ہم گھڑی کو دیکھتے ہیں کہ وقت کیا ہوا ہے، لیکن شاید ہی کبھی یہ سوچتے ہیں کہ ہماری زندگی کا کتنا حصہ اسی گھڑی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ وقت کی قدر اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب ہمارے پاس وہ وقت نہیں رہتا جسے ہم کسی کام کے لیے چاہتے تھے۔ اس لیے وقت کو صرف کام کے لیے استعمال کرنا کافی نہیں۔ وقت کو زندگی کے لیے بھی استعمال کرنا ضروری ہے۔

زندگی صرف بڑی کامیابی کا نام نہیں

ہم نے کامیابی کا مطلب بہت محدود کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک کامیابی اکثر بڑی گاڑی، بڑا گھر، زیادہ پیسہ یا بڑا عہدہ بن چکی ہے۔ لیکن کیا ایک پرسکون گھر کامیابی نہیں؟ کیا اپنوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت کامیابی نہیں؟ کیا کسی مشکل وقت میں کسی کے کام آ جانا کامیابی نہیں؟ کیا دل کا مطمئن ہونا کسی دولت سے کم ہے؟

زندگی صرف حاصل کرنے کی دوڑ نہیں۔ کبھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی بہت بڑی بات ہے۔ کسی ناراض شخص کو منا لینا، کسی ضرورت مند کی مدد کر دینا، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سن لینا یا کسی بزرگ کے پاس خاموشی سے کچھ وقت گزار دینا بھی زندگی کی کامیابیاں ہیں۔ انسان اگر صرف بڑی کامیابیوں کے پیچھے بھاگتا رہے تو ممکن ہے ایک دن اسے احساس ہو کہ اس نے بہت کچھ حاصل کیا، لیکن اس دوران بہت کچھ کھو بھی دیا۔

کبھی خود سے بھی مل لیا کرو

ہم دوسروں کی ضروریات پوری کرتے کرتے کبھی کبھی خود کو ہی بھول جاتے ہیں۔ صبح سے رات تک کام، ذمہ داریاں، فون، پیغامات، گھر کے معاملات اور مستقبل کی فکر چلتی رہتی ہے۔ ہم سب کے لیے وقت نکالتے ہیں لیکن خود سے یہ پوچھنے کا وقت نہیں نکالتے کہ ہم واقعی خوش ہیں یا نہیں۔

کبھی خاموشی میں بیٹھنا بھی ضروری ہے۔ کبھی اپنے خیالات کو سننا چاہیے۔ کبھی بغیر کسی مقصد کے چہل قدمی کر لینی چاہیے۔ کبھی کسی ایسی کتاب کے چند صفحات پڑھ لینے چاہئیں جو دل کو سکون دے۔ کبھی کسی ایسے دوست سے بات کرنی چاہیے جس کے سامنے ہمیں اپنے الفاظ سوچ سمجھ کر ادا نہ کرنے پڑیں۔ اپنے لیے وقت نکالنا خود غرضی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو سمجھنے کا ایک طریقہ ہے۔

جو خواب ہے، اسے شروع تو کرو

بہت سے خواب صرف اس لیے مر جاتے ہیں کہ ہم انہیں شروع کرنے کے لیے بہترین وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ابھی وسائل نہیں، ابھی وقت نہیں، ابھی حالات سازگار نہیں۔ پھر مہینے سالوں میں بدل جاتے ہیں اور خواب وہیں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں ہم نے اسے چھوڑا تھا۔

ہر خواب آج مکمل نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کی طرف پہلا قدم آج ضرور اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگر لکھنے کا شوق ہے تو آج ایک صفحہ لکھیں۔ کچھ سیکھنا ہے تو آج ایک گھنٹہ سیکھیں۔ کاروبار شروع کرنا ہے تو آج منصوبہ بنائیں۔ کسی سے رابطہ کرنا ہے تو آج فون کریں۔ بڑی کامیابی اکثر ایک چھوٹے قدم سے شروع ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ آج اپنی منزل تک پہنچ جائیں، لیکن اتنا ضرور کریں کہ آج آپ منزل کی طرف پہلے سے کچھ قدم آگے ہوں۔

ہر ناراضی کو ہمیشہ کے لیے مت چھوڑو

رشتوں میں اختلاف ہونا فطری ہے۔ کبھی غلط فہمی ہو جاتی ہے، کبھی کسی کے الفاظ دل دکھا دیتے ہیں اور کبھی انا دونوں طرف ایسی دیوار کھڑی کر دیتی ہے جسے توڑنا مشکل لگتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ پہل وہ کرے، غلطی اس کی تھی، میں کیوں معافی مانگوں؟ لیکن زندگی کبھی کبھی ہمیں یہ فیصلہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیتی کہ پہلے کون جھکے گا۔

کچھ لوگ اچانک ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں اور پھر ہمارے پاس صرف ان کی یاد رہ جاتی ہے۔ اس وقت ہمیں اپنی انا بہت چھوٹی اور وہ رشتہ بہت بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اگر کسی سے بات کرنے کی گنجائش ابھی باقی ہے تو صرف اس لیے خاموش نہ رہیں کہ پہل کون کرے گا۔ ہر رشتہ بچانا ممکن نہیں، لیکن ہر ناراضی کو عمر بھر اپنے دل پر بوجھ بنا کر رکھنا بھی ضروری نہیں۔

آج کی خوشی کو کل کے نام مت کرو

ہم اکثر اپنی خوشی کے لیے بھی کسی خاص دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ نئی چیز کسی خاص موقع پر پہنیں گے، اچھا کھانا کسی خاص دن کھائیں گے، کہیں گھومنے کسی خاص وقت جائیں گے یا کسی کو تحفہ کسی خاص موقع پر دیں گے۔ یوں بہت سی چیزیں الماریوں، ڈبوں اور منصوبوں میں پڑی رہتی ہیں اور زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے فکری سے سب کچھ خرچ کرتا رہے یا مستقبل کی ضرورت کو نظرانداز کر دے۔ اصل بات توازن کی ہے۔ زندگی میں کچھ چیزیں مستقبل کے لیے ضرور بچانی چاہئیں، مگر آج کی ہر خوشی کو بھی مستقبل کے نام نہیں کرنا چاہیے۔ اگر گھر میں بیٹھے ہوئے ایک سادہ سا کھانا بھی خوشی دے سکتا ہے تو اسے خوشی سے کھائیں۔ اگر کسی عزیز سے ملاقات کا موقع ہے تو اسے کسی خاص دن کے انتظار میں مت چھوڑیں۔ کبھی کبھی معمول کا ایک دن ہی بعد میں سب سے خوبصورت یاد بن جاتا ہے۔

ایک دن ہمیں صرف یادیں رہ جائیں گی

زندگی کے آخری حصے میں انسان شاید یہ نہیں سوچے گا کہ اس نے کتنے گھنٹے دفتر میں گزارے تھے یا کتنے دن اپنی مصروفیات کے پیچھے بھاگتا رہا تھا۔ اسے شاید وہ لوگ یاد آئیں گے جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا، وہ دوست یاد آئیں گے جن کے ساتھ بیٹھ کر بے وجہ ہنسا تھا، وہ سفر یاد آئیں گے جن میں دل خوش ہوا تھا اور وہ چھوٹے چھوٹے لمحے یاد آئیں گے جنہیں اس وقت شاید بہت معمولی سمجھا گیا تھا۔

بچوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت، والدین کے ساتھ بیٹھ کر کی گئی باتیں، کسی عزیز کی آواز، کسی دوست کی ہنسی، گھر میں ہونے والی چھوٹی سی خوشی، یہ سب چیزیں وقت کے ساتھ یادوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ آخرکار انسان کی زندگی صرف اس کے پاس موجود چیزوں میں نہیں رہتی بلکہ ان یادوں میں بھی رہتی ہے جو اس کے دل میں باقی رہ جاتی ہیں۔ اسی لیے آج کے لمحوں کو بے معنی سمجھ کر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

کل آئے تو اسے خوش آمدید کہنا

کل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دینا دانش مندی نہیں۔ ہمیں مستقبل کے لیے محنت بھی کرنی ہے، منصوبہ بھی بنانا ہے، بچت بھی کرنی ہے اور اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرنی ہیں۔ لیکن ان سب کاموں کے درمیان آج کو مکمل طور پر قربان کر دینا بھی سمجھ داری نہیں۔ مستقبل بنانے کے لیے آج کی ضرورت ہوتی ہے۔

کل جب آئے گا تو اسے خوش آمدید کہنا، مگر آج جب تمہارے پاس ہے تو اسے بھی نظرانداز نہ کرنا۔ آج اپنے کسی عزیز کے ساتھ بیٹھ سکتے ہو تو بیٹھ جاؤ۔ آج کوئی کام شروع کر سکتے ہو تو شروع کر دو۔ آج کسی کو خوش کر سکتے ہو تو کر دو۔ آج آرام کی ضرورت ہے تو کچھ دیر آرام کر لو۔ آج زندگی میں کوئی چھوٹی سی خوشی موجود ہے تو اسے محسوس کرو۔

زندگی کا اصل وقت ابھی ہے

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ زندگی کہیں آگے جا کر شروع ہوگی۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب حالات بہتر ہوں گے، جب پیسے زیادہ ہوں گے، جب ذمہ داریاں کم ہوں گی یا جب کوئی بڑا خواب پورا ہوگا تو تب اصل زندگی شروع ہوگی۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ زندگی کہیں آگے نہیں، یہیں ہے۔ یہی گھر، یہی لوگ، یہی دن، یہی لمحہ اور یہی سانسیں ہماری زندگی ہیں۔

ہم جس دن کا انتظار کر رہے ہیں، ممکن ہے وہ دن کبھی ہماری توقع کے مطابق نہ آئے۔ لیکن آج کا دن ہمارے سامنے موجود ہے۔ ہم اسے چاہیں تو شکایتوں میں گزار سکتے ہیں، چاہیں تو فکر میں گزار سکتے ہیں یا چاہیں تو اس میں سے کچھ سکون، کچھ محبت اور کچھ خوشی تلاش کر سکتے ہیں۔ حالات ہمیشہ ہمارے قابو میں نہیں ہوتے، مگر آج کے لمحے کے ساتھ ہمارا رویہ کسی حد تک ہمارے ہاتھ میں ضرور ہوتا ہے۔

کل کی فکر میں آج مت کھو دینا

زندگی ہمیں بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے، لیکن ہم اسے اکثر بہت دیر سے سمجھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ کل سب بہتر ہوگا۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ بعد میں سب کچھ کر لیں گے۔ لیکن زندگی کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ “بعد میں” ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔

اس لیے مستقبل کے لیے سوچو، مگر آج کے بغیر نہیں۔ کل کے لیے بچاؤ، مگر آج کی ہر خوشی قربان کرکے نہیں۔ اپنے خوابوں کے لیے محنت کرو، مگر موجودہ زندگی سے محبت کرنا مت چھوڑو۔ اپنے بچوں کا مستقبل بناؤ، مگر ان کا بچپن مت کھو دو۔ اپنے گھر کے لیے کماؤ، مگر گھر والوں کو وقت دینا مت بھولو۔ اپنے لیے بہتر کل چاہو، مگر آج کے سکون کو مکمل طور پر قربان مت کرو۔

اگر کسی سے بات کرنی ہے تو آج بات کر لو۔ اگر کسی کی قدر کرتے ہو تو آج بتا دو۔ اگر کسی کا شکریہ ادا کرنا ہے تو دیر نہ کرو۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو انا کو ایک طرف رکھ دو۔ اگر کوئی خواب ہے تو اس کی طرف پہلا قدم آج اٹھا لو۔ اگر تھک گئے ہو تو کچھ دیر آرام کر لو۔ اگر زندگی میں کوئی چھوٹی سی خوشی موجود ہے تو اسے یہ کہہ کر واپس مت بھیجو کہ “کل آنا۔”

کون جانتا ہے کل کیا ہو؟ حالات بدل سکتے ہیں، راستے بدل سکتے ہیں، لوگ بدل سکتے ہیں اور ہماری ترجیحات بھی بدل سکتی ہیں۔ شاید وہ موقع نہ رہے جس کا ہم آج انتظار کر رہے ہیں۔ شاید وہ شخص ہمارے پاس نہ ہو جس سے ہم کل بات کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ وقت نہ رہے جسے ہم آج معمولی سمجھ رہے ہیں۔

اس لیے کل کے لیے امید رکھو، لیکن آج کو جینا مت بھولو۔ مستقبل کے لیے محنت کرو، لیکن موجودہ لمحے کو سزا مت بناؤ۔ زندگی کسی آنے والے دن کا نام نہیں، زندگی وہ لمحہ ہے جو اس وقت ہمارے پاس ہے۔

کل جب آئے گا تو وہ بھی ایک دن آج ہی بنے گا۔ اگر ہم نے اسے بھی کسی اگلے کل کے انتظار میں گزار دیا تو پھر زندگی آخر کب جئیں گے؟

2 Comments

  • Abdul Ala

    Time and tide wait for none

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

© 2024 Created by GoodToBest