تھکن کیا واقعی جسم میں ہوتی ہے؟
کبھی آپ نے غور کیا کہ بعض دن جسم ٹھیک ہوتا ہے، نیند بھی پوری ہوتی ہے، پھر بھی دل عجیب سا بوجھل لگتا ہے؟ کام شروع کرنے کو جی نہیں چاہتا، فون ہاتھ میں ہو تو وقت گزر جاتا ہے مگر کوئی کام مکمل نہیں ہوتا۔ ایسے لمحوں میں ہم فوراً کہہ دیتے ہیں، “میں بہت تھک گیا ہوں۔” لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تھکن واقعی جسم میں ہوتی ہے، یا کہیں یہ ذہن کی تھکن ہوتی ہے جسے ہم جسم کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں؟ پاکستانی معاشرے میں تھکن کو عموماً کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ آدمی اگر تھکنے کی بات کرے تو فوراً مشورے شروع ہو جاتے ہیں: کچھ کھالو، سیرپ پی لو، آرام کر لو۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ دل کی کیفیت کیا ہے، ذہن کہاں پر آ کر رک گیا ہے۔
راستہ بند ہوتا ہے یا ہم خود رک جاتے ہیں؟
اکثر لوگ کہتے ہیں، “اب میرے لیے آگے کوئی راستہ نہیں رہا۔” یہ جملہ سننے میں بہت سادہ ہے مگر اس کے پیچھے برسوں کی مایوسی، دباؤ اور ٹوٹے ہوئے خواب ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ راستے کم ہی بند ہوتے ہیں، زیادہ تر ہم خود تھکن کے نام پر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب ذہن بار بار یہی سوچے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، تو پھر سامنے کھلا میدان بھی بند گلی لگنے لگتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کی بات یاد آتی ہے جو روزانہ شہر کی ٹریفک، شور اور گرمی سے لڑتا ہے۔ اس نے ایک دن کہا، “بھائی، راستہ تو روز وہی ہے، فرق صرف میری سوچ کا ہوتا ہے۔ جس دن دل ہارا ہو، اس دن سڑک بھی دشمن لگتی ہے۔”
ہماری روزمرہ زندگی کی خاموش تھکن
یہ تھکن شور نہیں مچاتی، کوئی الارم نہیں بجاتی۔ یہ آہستہ آہستہ زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ صبح آنکھ کھلنے میں دقت، چھوٹی بات پر غصہ، لوگوں سے بات کرنے سے کترانا، اور ہر وقت دل میں ایک بے نام سا بوجھ۔ ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اسی خاموش تھکن کے ساتھ سالوں گزار دیتے ہیں۔ باہر سے سب ٹھیک نظر آتا ہے مگر اندر کچھ ٹوٹا ہوتا ہے۔ پاکستانی گھروں میں اکثر کہا جاتا ہے، “بس کام کرتے رہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔” مگر بعض اوقات کام ہی تھکن کی وجہ بن جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ کام دل کے خلاف ہو یا مسلسل دباؤ میں کیا جا رہا ہو۔
سوچ بدلنے کا مطلب کیا ہے؟
سوچ بدلنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ اچھا مان لیا جائے یا مسئلوں سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔ سوچ بدلنے کا مطلب ہے حالات کو نئے زاویے سے دیکھنا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی نوکری میں خوش نہیں، تو سوچ بدلنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوراً نوکری چھوڑ دے۔ بلکہ یہ سمجھنا کہ یہ نوکری میری پوری زندگی نہیں ہے، یہ صرف ایک مرحلہ ہے۔ ہم اکثر ایک مرحلے کو پوری کہانی سمجھ لیتے ہیں، اور یہی سوچ ہمیں تھکا دیتی ہے۔
چھوٹی کہانی: اسٹاپ پر کھڑا آدمی
ایک آدمی روز بس اسٹاپ پر کھڑا ہو کر بس کا انتظار کرتا تھا۔ بس دیر سے آتی، وہ غصے میں رہتا۔ ایک دن اس نے بس اسٹاپ کے پاس لگے درخت کو غور سے دیکھا، وہی درخت جو ہر موسم میں وہیں کھڑا رہتا تھا۔ اس دن اس نے سوچا، “میں روز بس کے انتظار میں تھکتا ہوں، مگر یہ درخت بغیر کہیں گئے، اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ اُس دن اس کی تھکن کم ہو گئی، بس نہیں بدلی، مگر سوچ بدل گئی۔
ہم ہر وقت خود کو کیوں قصوروار ٹھہراتے ہیں؟
تھکن کے ساتھ ایک اور مسئلہ جڑا ہوتا ہے، خود کو قصوروار ٹھہرانا۔ ہم کہتے ہیں، شاید میں ہی ناکام ہوں، شاید میں میں نے ہی غلط فیصلے کیے۔ حالانکہ بہت سی چیزیں ہمارے بس میں نہیں ہوتیں۔ معاشی حالات، خاندانی ذمہ داریاں، سماجی دباؤ، یہ سب انسان کو اندر سے نچوڑ لیتے ہیں۔ سوچ بدلنے کا ایک اہم قدم یہ ہے کہ ہر بوجھ خود پر نہ ڈالیں۔
موازنہ: تھکن کی سب سے بڑی وجہ
سوشل میڈیا نے تھکن کو اور بڑھا دیا ہے۔ دوسروں کی کامیابیاں، مسکراتی تصویریں، اور خوشحال زندگیوں کا تاثر ہمیں اپنی زندگی سے بدظن کر دیتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ تصویر کے پیچھے کی کہانی کوئی نہیں دکھاتا۔ جب ہم خود کو دوسروں سے تولتے ہیں، تو اپنی رفتار، اپنی صلاحیت اور اپنے حالات سب بھول جاتے ہیں۔ یہی موازنہ ذہنی تھکن کو جنم دیتا ہے۔
زندگی ریس نہیں، سفر ہے
ہمیں سکھایا گیا ہے کہ زندگی میں آگے نکلنا ضروری ہے۔ مگر آگے نکلنے کی دوڑ میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کس قیمت پر دوڑ رہے ہیں۔ کبھی کبھی رک جانا، سانس لینا، اور خود سے یہ سوال کرنا کہ “میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟” بہت ضروری ہوتا ہے۔ سوچ بدلنے کا مطلب ہے زندگی کو ریس نہیں بلکہ سفر سمجھنا۔
چھوٹے فیصلے، بڑی تبدیلی
ہر تبدیلی بڑی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک چھوٹا فیصلہ، جیسے روزانہ دس منٹ خاموشی میں بیٹھنا، یا موبائل سے دور رہنا، یا خود سے سچ بول لینا، بڑی تھکن کو کم کر دیتا ہے۔ ہم بڑے حل ڈھونڈتے ہیں، جبکہ اصل میں ہمیں چھوٹے وقفوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
تھکن ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
تھکن دشمن نہیں، پیغام ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم خود کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ جب ہم اس پیغام کو سمجھ لیتے ہیں، تو راستے خود بخود واضح ہونے لگتے ہیں۔ تھکن کے وقت راستہ بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی، سوچ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر میں
اگر آپ آج تھکے ہوئے ہیں، تو خود کو کمزور نہ سمجھیں۔ یہ تھکن آپ کو یہ بتانے آئی ہے کہ رک کر سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔ راستے اب بھی موجود ہیں، بس نظر بدلنے کی دیر ہے۔ کیا آپ نے کبھی ایسی تھکن محسوس کی ہے جو جسم سے زیادہ دل میں ہو؟ آپ نے اس سے کیسے نمٹا، یا اب تک کیسے نمٹ رہے ہیں؟ اپنی رائے اور تجربہ نیچے کمنٹ میں ضرور لکھیں، شاید آپ کے الفاظ کسی اور کے لیے سہارا بن جائیں۔
































