زندگی کی تلخ حقیقتیں — ہم سچ سے کیوں بھاگتے ہیں؟

دنیا میں ہر انسان سکون کی تلاش میں ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی خوشیوں سے بھری رہے۔ لیکن زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں معلوم تو ہوتی ہیں، مگر ہم انہیں ماننا نہیں چاہتے۔ انہیں ہی “تلخ حقیقتیں” کہا جاتا ہے۔ ہم سچ سے اس لیے بھاگتے ہیں کیونکہ سچ کڑوا ہوتا ہے۔ سچ ہمیں ہماری کمزوریوں کا احساس دلاتا ہے۔ اس بلاگ میں ہم ان حقائق پر بات کریں گے جن کا سامنا کرنا ہمارے لیے مشکل ہوتا ہے۔

زندگی کی حقیقت اور ہماری سوچ

ہماری سوچ اکثر خوابوں کی دنیا میں رہتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ویسا ہی ہوگا جیسا ہم چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ زندگی ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم چاہتے ہیں، بلکہ وہ دیتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اکثر اپنی سوچ کو حقیقت سے دور رکھتے ہیں۔ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو حقیقت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ زندگی کو ویسے ہی قبول کرنا چاہیے جیسی وہ ہے۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم اچھے ہیں تو ہمارے ساتھ ہمیشہ اچھا ہی ہوگا۔ یہ ایک بہت بڑی خوش فہمی ہے۔ زندگی کے اپنے قوانین ہیں۔ کبھی کبھی اچھے لوگوں کے ساتھ بھی برا وقت آ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچھائی کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہر طرح کے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ سچائی کو قبول کرنے والا انسان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ دکھ اور سکھ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

ہم سچ سننے سے کیوں ڈرتے ہیں؟

سچ بولنا جتنا مشکل ہے، اسے سننا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ ہم اپنی تعریف سن کر خوش ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی ہماری غلطی بتاتا ہے تو ہمیں غصہ آتا ہے۔ سچ سننے سے ہمارا غرور ٹوٹتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ سچ مان لینے سے ہم چھوٹے ہو جائیں گے۔ یہی خوف ہمیں سچ سے دور رکھتا ہے۔ ہم جھوٹی تسلیوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن میں ایک فرضی دنیا بنا لیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، جھوٹ کا سہارا عارضی ہوتا ہے۔ سچ ہی وہ بنیاد ہے جس پر پائیدار زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

نفسیاتی طور پر انسان اپنی انا (Ego) کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کوئی سچائی ہماری انا کو ٹھیس پہنچاتی ہے، تو ہم اس شخص کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے، وہی ہمارا اصل خیر خواہ ہے۔ ہم ان لوگوں کے گرد رہنا پسند کرتے ہیں جو ہمیں خوش کرنے کے لیے جھوٹی تعریفیں کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تلخ حقیقت ہے کہ جھوٹی تعریف ہمیں برباد کر دیتی ہے، جبکہ کڑوا سچ ہمیں سنوار دیتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر سچ سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

اپنوں کے بدلتے ہوئے رویے اور ہماری توقعات

یہ زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ لوگ بدل جاتے ہیں۔ وقت اور حالات کے ساتھ انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ہم لوگوں سے بہت زیادہ امیدیں لگا لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ویسے ہی رہیں گے۔ جب ان کا رویہ بدلتا ہے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں مصروف ہے۔ کسی سے حد سے زیادہ توقع رکھنا اپنے آپ کو دکھ دینے کے برابر ہے۔ رشتے نبھائیں، مگر اپنی خوشیوں کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں نہ دیں۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ “میں نے اس کے ساتھ اتنا اچھا کیا، تو وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے؟” یہ سوال ہی ہماری پریشانی کی جڑ ہے۔ نیکی کر کے بھول جانا ہی سکون کا راستہ ہے۔ جب ہم کسی پر احسان کرتے ہیں اور بدلے کی امید رکھتے ہیں، تو ہم دراصل ایک سودا کر رہے ہوتے ہیں۔ رشتے سودے بازی کا نام نہیں ہیں۔ ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ لوگوں کے بدلنے کے پیچھے ان کی اپنی مجبوریاں یا ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ اپنی خوشی کے لیے دوسروں کا محتاج ہونا بند کریں۔

کیا پیسہ اور شہرت ہی اصل سکون ہے؟

آج کے دور میں ہم سمجھتے ہیں کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ ہم دن رات دولت کمانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ زیادہ پیسہ ہوگا تو زندگی آسان ہوگی۔ یہ سچ ہے کہ پیسہ ضرورت ہے، مگر یہ سکون کی ضمانت نہیں ہے۔ بہت سے امیر لوگ ذہنی سکون کے لیے ترستے ہیں۔ اصل سکون دل کے اطمینان میں ہے۔ شہرت آج ہے اور کل نہیں ہوگی۔ لوگ آپ کو تب تک یاد رکھتے ہیں جب تک آپ ان کے کام آتے ہیں۔ ہمیں پیسے کے ساتھ ساتھ رشتوں اور اپنی ذہنی صحت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ہم مادی چیزوں کے پیچھے اس قدر بھاگ رہے ہیں کہ ہم نے سکونِ قلب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک بڑا گھر، مہنگی گاڑی اور برانڈڈ کپڑے شاید آپ کو معاشرے میں عزت دلا دیں، مگر وہ آپ کو اندرونی اطمینان نہیں دے سکتے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ قبر میں کوئی بھی اپنی دولت ساتھ لے کر نہیں جاتا۔ لوگ آپ کی دولت سے متاثر تو ہو سکتے ہیں، مگر وہ آپ کی شخصیت سے پیار نہیں کرتے۔ سکون ان چیزوں میں ہے جو خریدی نہیں جا سکتیں، جیسے سچی نیند، مخلص رشتے اور اللہ کا شکر۔

مطلب کی دنیا اور بے لوث رشتے

آج کل اکثر رشتے مطلب کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ جب تک آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ ہے، لوگ آپ کے گرد رہیں گے۔ جس دن آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا، وہی لوگ نظر نہیں آئیں گے۔ یہ بات سننا بہت تلخ ہے، مگر یہی حقیقت ہے۔ بے لوث رشتے بہت کم ہوتے ہیں۔ ہمیں ان چند لوگوں کی قدر کرنی چاہیے جو ہماری جیب دیکھ کر نہیں بلکہ ہمارا دل دیکھ کر ساتھ چلتے ہیں۔ مطلب کی دنیا میں مخلص انسان کا ملنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

ہم اکثر ان لوگوں پر وقت ضائع کرتے ہیں جو صرف ہمارے عہدے یا پیسے کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہیں۔ جب ہم کسی مشکل میں پڑتے ہیں، تو سب سے پہلے وہی لوگ ساتھ چھوڑتے ہیں۔ یہ ایک کڑوا سبق ہے جو زندگی ہمیں سکھاتی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ بھیڑ میں سے مخلص لوگوں کو کیسے پہچانا جائے۔ مخلص انسان وہ ہے جو آپ کی خاموشی کو سمجھے اور آپ کے برے وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ باقی سب تماشائی ہیں۔

ناکامی کو تسلیم نہ کرنے کا نقصان

ہم ہمیشہ جیتنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ہارنے سے ڈر لگتا ہے۔ ہم اپنی ناکامی کا ذمہ دار حالات یا دوسرے لوگوں کو ٹھہراتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ جب تک ہم اپنی غلطی نہیں مانیں گے، ہم سیکھ نہیں سکیں گے۔ ناکامی دراصل کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو انسان اپنی ہار سے نہیں سیکھتا، وہ کبھی بڑا نہیں بن سکتا۔ اپنی کمزوریوں کو پہچاننا اور ان پر کام کرنا ہی عقلمندی ہے۔ سچ سے بھاگنے والا کبھی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔

ہماری انا ہمیں یہ تسلیم نہیں کرنے دیتی کہ ہم بھی غلط ہو سکتے ہیں۔ ہم دوسروں کی تنقید کو دشمنی سمجھنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو اپنی غلطی مان لیتا ہے، وہی ترقی کرتا ہے۔ زندگی کا ہر موڑ ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ اگر ہم اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالتے رہیں گے، تو ہم کبھی مضبوط نہیں بن پائیں گے۔ ہارنا برا نہیں ہے، لیکن ہار مان لینا اور اس سے نہ سیکھنا برا ہے۔

وقت کی بے رحمی اور ضائع شدہ لمحات

وقت ایک ایسی چیز ہے جو کبھی واپس نہیں آتا۔ ہم سب یہ جانتے ہیں، مگر پھر بھی ہم اسے ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے یہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو لمحہ گزر گیا، وہ اب تاریخ بن چکا ہے۔ ہم اکثر مستقبل کی فکر میں اپنے حال کو برباد کر دیتے ہیں۔ یا پھر ماضی کی یادوں میں کھو کر اپنا آج ضائع کر دیتے ہیں۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس ابھی بہت وقت ہے۔ ہم اپنے ضروری کاموں اور پیاروں کو وقت دینا کل پر ٹال دیتے ہیں۔ لیکن کیا پتہ کل ہو نہ ہو؟ موت کی حقیقت سب سے بڑی سچائی ہے جس سے ہم سب سے زیادہ بھاگتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی ایسے گزارتے ہیں جیسے ہم کبھی مریں گے ہی نہیں۔ اگر ہم اس سچائی کو یاد رکھیں، تو ہم وقت کی قدر کرنا سیکھ جائیں گے۔ اپنوں کے ساتھ گزارا ہوا ایک پل لاکھوں روپے سے زیادہ قیمتی ہے۔

دوسروں کی رائے اور ہماری زندگی

ہم اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ دوسروں کو متاثر کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ “لوگ کیا کہیں گے؟” یہ وہ جملہ ہے جس نے لاکھوں خوابوں کو دفن کر دیا ہے۔ ہم وہ لباس پہنتے ہیں جو دوسروں کو پسند ہو، وہ کام کرتے ہیں جس سے معاشرے میں واہ واہ ہو، اور وہ زندگی گزارتے ہیں جو دوسروں کی نظر میں اچھی ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم اپنی زندگی دوسروں کے لیے جی رہے ہیں؟

یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ لوگوں کے پاس دوسروں کے بارے میں سوچنے کے لیے اتنا وقت نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ اگر آج آپ کو کچھ ہو جائے، تو لوگ چند دن افسوس کریں گے اور پھر اپنی زندگی میں مگن ہو جائیں گے۔ تو پھر کیوں ہم دوسروں کی خاطر اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹتے ہیں؟ اپنی زندگی اپنی شرائط پر گزارنا سیکھیں۔ خود کو خوش رکھنا آپ کی پہلی ذمہ داری ہے۔

سچائی کو مان لینے میں ہی سکون ہے

جب ہم حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو ہمارا آدھا دکھ ختم ہو جاتا ہے۔ ذہنی سکون تب ملتا ہے جب ہم زندگی کو اس کے اصلی رنگوں میں دیکھتے ہیں۔ سچ سے بھاگنا ہمیں تھکا دیتا ہے۔ ہم کتنی دیر تک خود سے جھوٹ بولیں گے؟ جس دن آپ نے یہ مان لیا کہ زندگی مکمل نہیں ہے، اسی دن آپ کو سکون مل جائے گا۔ لوگوں کو ویسے ہی قبول کریں جیسے وہ ہیں۔ حالات کو بدلنے کی کوشش ضرور کریں، مگر انہیں قبول کرنا بھی سیکھیں۔ حقیقت کا سامنا کرنے سے انسان میں ہمت پیدا ہوتی ہے۔

ہماری بے چینی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم حقائق سے لڑتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات ویسے ہوں جیسے ہم سوچتے ہیں۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سکون تب آتا ہے جب ہم “جو ہے، جیسا ہے” کی بنیاد پر زندگی کو قبول کرتے ہیں۔ سچائی کو اپنانا شروع میں مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر اس کا انجام بہت خوبصورت ہوتا ہے۔

خلاصہ اور پیغام

زندگی تلخ ضرور ہے مگر یہ خوبصورت بھی ہے۔ سچ سے بھاگنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر ہم ان حقائق کو مان لیں، تو ہماری زندگی آسان ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔ دوسروں سے امیدیں کم رکھیں اور اپنی محنت پر بھروسہ کریں۔ زندگی کے ہر لمحے کو جیئیں اور حقیقت کا سامنا بہادری سے کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک عام انسان سے ایک بہترین انسان بناتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

Services

© 2024 Created by GoodToBest