ہماری روزمرہ زندگی میں دعوتیں ایک ایسا حصہ بن گئی ہیں جو کبھی خوشی کی علامت ہوتی ہیں اور کبھی دکھ کی، کبھی شادی کا موقع ہوتا ہے اور کبھی کسی کارخیر کے نام پر لوگوں کو جمع کرنے کا بہانہ، لیکن ان سب میں ایک بات جو سال ہا سال سے چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان تقریبات میں کھانا ضائع ہونا عام بات سمجھ لیا گیا ہے، جیسے یہ جرم ہے ہی نہیں یا جیسے یہ معمولی سا عمل ہے، کوئی اس پر بات نہیں کرتا، کوئی یہ محسوس نہیں کرتا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں لوگ ایک وقت کے کھانے کے لیے ترستے ہیں اور یہاں ہم بچا ہوا کھانا اٹھا کر پھینک دیتے ہیں، یہ حقیقت اتنی خاموشی سے ہمارے کلچر میں سرایت کر چکی ہے کہ لوگ اسے غلط سمجھنے کے بجائے ایک طرح کی روایت سمجھ بیٹھے ہیں، اور شاید اسی وجہ سے یہ بات مزید خطرناک ہو گئی ہے، کیونکہ جب غلطی روایت بن جائے تو اسے ٹھیک کرنا آسان نہیں رہتا۔
دعوتوں کا کلچر اور دکھاوا
پاکستانی معاشرہ بنیادی طور پر ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس بات کو بہت اہمیت دیتے ہیں، چاہے وہ شادی ہو، ولیمہ ہو، سالگرہ ہو، چالیسواں ہو، یا محض کوئی رسمی کھانا ہو، میزبان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ لوگ یہ کہہ کر جائیں کہ واہ کیا دعوت تھی، کھانا بے حساب تھا، میز بھرے ہوئے تھے، پکوانوں کی خوشبو الگ، کھانوں کی تعداد الگ، اور ضرورت سے کہیں زیادہ، شاید اس سے زیادہ لوگ خوش نہیں ہوتے جتنا اس بات سے ہوتے ہیں کہ انہیں لگا کہ کھانے کی بھرمار تھی، مگر حیرت یہ ہے کہ جب یہ بھرمار اپنی حدیں پار کر جاتی ہے تو پھر یہی کھانا اپنے انجام کی طرف بڑھتا ہے، یعنی ضائع ہونے کی طرف، اور لوگ واپس جا کر تعریفیں کرتے ہیں کہ دعوت بہت شاندار تھی مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ پیچھے کتنا کچھ کچرے میں گیا۔
کھانے کی ضیاع کے محرکات
اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو کھانا ضائع ہونے کی وجہ صرف بے احتیاطی نہیں، بلکہ کئی نفسیاتی اور معاشرتی عوامل بھی اس میں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کھانا کم پڑ گیا تو بے عزتی ہو جائے گی، اس خوف نے کھانے کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا کہ اب معمول یہ ہو گیا ہے کہ لوگ ہمیشہ ضرورت سے زیادہ پکاتے ہیں، دوسرا عنصر دکھاوا ہے جس میں لوگ ایک خاص معیار دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے اگر دس چیزیں ہوں گی تو لوگ کہیں گے کہ دعوت چھوٹی تھی، اگر پندرہ ہوں گی تو شاید بات بن جائے، لیکن اگر بیس ہوں گی تو تب ہی لوگ واقعی مطمئن ہوں گے، اسی سوچ نے کھانے کے تصور کو ضرورت کے بجائے نمائش میں بدل دیا ہے، اور یہ نمائش جتنی بڑی ہو گی ضیاع بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔
مہمانوں کا رویہ اور بے حسی
عجیب بات یہ ہے کہ صرف میزبان ہی نہیں، مہمان بھی اس ضیاع کا حصہ ہیں، اکثر لوگ پلیٹیں اس طرح بھرتے ہیں جیسے انہیں پتہ نہیں کہ وہ کتنا کھا سکیں گے، یا جیسے پلیٹ کم بھرنے سے ان کی شان کم ہو جائے گی، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدھا کھانا پلیٹ میں رہ جاتا ہے اور براہ راست ٹوکری میں چلا جاتا ہے، خاص طور پر بوفے سسٹم میں یہ رویہ زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ پہلے پلیٹ بھر لیتے ہیں، پھر آدھے راستے میں ان کا دل بدل جاتا ہے، کبھی نئی چیز دیکھ کر پلیٹ چھوڑ دیتے ہیں، کبھی باتوں میں لگ کر کھانا ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ چلیں نئی پلیٹ لے لیتے ہیں، پرانی پلیٹ کا انجام پھر وہی ہوتا ہے، یعنی کچرا۔
ہوٹلز اور کیٹرنگ کی بے احتیاطی
صرف گھرانے نہیں بلکہ ہوٹلز اور کیٹرنگ سروسز بھی اس مسئلے کی ایک وجہ ہیں، ان کے پاس کھانا سنبھالنے یا دوبارہ تقسیم کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا، ان کے لیے بچا ہوا کھانا صرف پیکج کا حصہ ہوتا ہے جو وہ ضائع کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے بزنس ماڈل کا حصہ نہیں بنا، ورنہ دنیا میں کئی ملکوں میں کیٹرنگ سروسز کا ایک طریقہ ہوتا ہے کہ بچا ہوا کھانا ایسے افراد تک پہنچایا جائے جو اس کے محتاج ہوں، مگر ہمارے ہاں ایسا کوئی تصور نہیں، کیونکہ یہاں ضائع ہو جانے والا کھانا شاید کسی کی توجہ ہی نہیں کھینچتا۔
سوشل میڈیا، مقابلہ بازی اور نفسیاتی دباؤ
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے بھی کھانے کی ضیاع میں ایک خاموش کردار ادا کیا ہے، لوگ ایسی تصویریں لگاتے ہیں جن میں میز کھانوں سے بھری ہوئی نظر آئے، کھانے کی کثرت ان کے لیے ایک طرح کا فخر بن گئی ہے، جیسے یہ بتانا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اتنی گنجائش ہے کہ وہ چاہیں تو بے شمار ڈشیں رکھ دیں، اس مقابلہ بازی نے دعوتوں کا معیار بدل دیا ہے، پہلے لوگ سادگی سے دعوت رکھتے تھے مگر اب ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی دعوت کسی دوسری دعوت سے بہتر دکھائی دے، تصاویر اچھی آئیں، تعریفیں ملیں، اور ویڈیو بناتے ہوئے لوگ کہیں کہ یہ واقعی شاندار تقریب تھی، مگر کوئی نہیں کہتا کہ اس میں کتنا کچھ ضائع ہوا۔
ہماری روایات اور مذہبی پہلو
جب ہم اپنی روایات اور دین کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ کھانے کی قدروقیمت ہمارے دین میں بہت زیادہ ہے، روایت ہے کہ کھانا نعمت ہے اور نعمت کا شکر اسی وقت ادا ہو سکتا ہے جب اسے ضائع نہ کیا جائے، مگر ہم نے اس پہلو کو اپنی عملی زندگی میں بہت کم جگہ دی ہے، یا یوں کہہ لیں کہ ہم مذہبی باتوں کو صرف سننے اور پڑھنے میں تو دلچسپی رکھتے ہیں مگر عملی طور پر ان پر عمل کرنے میں وہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے، اور یہی وجہ ہے کہ کھانے کی نعمت بھی ہماری نظر میں معمول کی چیز بن گئی ہے، حالانکہ دنیا بھر میں لوگ ایک وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی لئے حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ بھوک ہو تو کھاوٗ اور بھوک ہو تو چھوڑ دو۔ اور یہ صحتمند رہنے کی بہت بڑی بات ہے۔
نفسیاتی پہلو اور رویوں کی تبدیلی
اگر ہم یہ سمجھنا چاہیں کہ کھانا ضائع کیوں ہوتا ہے تو اس کے پیچھے نفسیات کا بھی ایک حصہ ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ کھانا بہت سستا ہے، یا یہ کہ اگر کھانا بچ جائے گا تو کوئی مسئلہ نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کھانے کی پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے، ہر دانے کے پیچھے کسان کی محنت، پانی کے وسائل، بجلی، کھاد، مزدوری سب کچھ شامل ہوتا ہے، مگر چونکہ یہ سب ہماری نظر سے اوجھل رہتا ہے اس لیے ہم کھانے کو بس ایک ایسی چیز سمجھتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہو گی، حالانکہ یہ سوچ حقیقت سے بہت دور ہے، اور جتنی جلدی ہم اسے بدلیں گے اتنا آسان ہو جائے گا اس ضیاع کو روکنا۔بہت ضروری ہے
حل کا راستہ اور عملی تجاویز
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ دعوتوں میں کھانا ضائع نہ ہو تو ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے، سادگی کو اپنانا ہو گا، ایسے کھانے رکھنے ہوں گے جو واقعی لوگ کھا سکیں، نہ کہ صرف دکھاوے کے لیے رکھے جائیں، بوفے میں تعلیم دینی ہو گی کہ لوگ صرف اتنا لیں جتنا وہ کھا سکتے ہیں، ہوٹلز اور کیٹرنگ والوں کو بھی سسٹم بنانا ہو گا کہ کھانا محفوظ رہے اور ایسے لوگوں تک پہنچ سکے جو اس کے مستحق ہوں، چھوٹی سطح پر بھی ہم یہ قدم اٹھا سکتے ہیں کہ بچا ہوا کھانا پیک کر کے دے دیں، بجائے اس کے کہ اسے ضائع کریں، اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے بچوں میں یہ شعور پیدا کرنا ہو گا کہ یہ کھانا محض پلیٹ میں رکھا ہوا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اللہ کی نعمت ہے۔
آخر میں بات یہی ہے کہ کھانا ضائع کرنا صرف ایک غلطی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمارے سامنے روزانہ کھڑی ہوتی ہے اور ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہو گئے ہیں، سمجھدار ہیں، اور دنیا جانتے ہیں، مگر جب کوئی شخص آدھی پلیٹ چھوڑ دیتا ہے تو اسی لمحے یہ حقیقت سامنے آ جاتی ہے کہ اصل میں ہم نے ابھی تک یہ سیکھا ہی نہیں کہ نعمت کی قدر کیسے کی جاتی ہے، شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس موضوع پر بات کرنا شروع کریں، اسے سنجیدگی سے لیں، اپنے گھروں سے، اپنے رویوں سے، اپنی دعوتوں سے، اور معاشرتی رویوں سے یہ غلطی کم سے کم کرتے جائیں، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی تبدیلی بھی بہت بڑے فرق کی بنیاد بن جاتی ہے۔
































2 Comments
It makes me hungry.
Good one. Thanks for reading please visting.