ایک سادہ مگر گہرا مشاہدہ
مختصر انسانی زندگی کتنی مختصر ہے؟ یہ سوال ہم سب نے کبھی نہ کبھی ضرور سوچا ہوگا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس سوال پر زیادہ دیر ٹھہرتے نہیں۔ چند لمحوں کے لیے دل میں ایک خیال آتا ہے، پھر روزمرہ کی دوڑ دھوپ ہمیں واپس اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ہم دوبارہ مصروف ہو جاتے ہیں، جیسے وقت کبھی ختم نہیں ہوگا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی ایک مختصر سفر ہے۔ یہ چند سانسوں، چند موسموں اور چند یادوں کا مجموعہ ہے۔
زندگی: ایک عارضی قیام
ہم اس دنیا میں آتے ہیں، آہستہ آہستہ چلنا سیکھتے ہیں، بولنا سیکھتے ہیں، پھر خواب دیکھنا سیکھتے ہیں۔ بچپن کھیل کود میں گزر جاتا ہے۔ نوجوانی خوابوں اور خواہشوں میں۔ اور جب انسان پلٹ کر دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ سب کچھ کتنی جلدی گزر گیا۔
قرآنِ مجید میں بھی دنیا کی زندگی کو ایک عارضی قیام کہا گیا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ یہ بات صرف مذہبی نہیں بلکہ ایک گہری انسانی سچائی بھی ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ہم نے کتنا وقت فکروں میں گزار دیا، کتنا وقت انا میں ضائع کر دیا، اور کتنا وقت دوسروں کو ثابت کرنے میں برباد کر دیا۔
وقت: سب سے قیمتی سرمایہ
زندگی مختصر ہے کیونکہ وقت محدود ہے۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” یہ مصرعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فرد کی زندگی ہی اصل بنیاد ہے۔ اگر فرد وقت کی قدر نہ کرے تو قوم بھی پیچھے رہ جاتی ہے۔ وقت کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ واپس نہیں آتا۔ ہم دولت کھو دیں تو شاید دوبارہ کما لیں۔ صحت خراب ہو جائے تو علاج ممکن ہے۔ مگر گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے۔ انسان کی زندگی دراصل لمحوں کی ایک لڑی ہے۔ اگر ہر لمحہ ضائع ہو رہا ہو تو پوری زندگی ضائع ہو جاتی ہے۔
بچپن سے بڑھاپے تک
بچپن میں ہمیں لگتا ہے کہ زندگی بہت لمبی ہے۔ ہم کہتے ہیں: “ابھی تو پوری عمر پڑی ہے۔” نوجوانی میں ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت اور وقت ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں۔ بال سفید ہونے لگتے ہیں۔ جسم تھکنے لگتا ہے۔ آنکھوں کی روشنی کم ہونے لگتی ہے۔ اور ایک دن انسان حیران رہ جاتا ہے کہ وہ کب جوانی سے بڑھاپے تک پہنچ گیا۔ یہی زندگی کی مختصری ہے۔ یہ آہستہ آہستہ نہیں گزرتی، بلکہ اچانک گزر جاتی ہے۔
خواب اور حقیقت
انسان خواب دیکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بڑا گھر ہو، اچھی گاڑی ہو، عزت ہو، مقام ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب حاصل کر لینے سے زندگی لمبی ہو جاتی ہے؟ نہیں۔ زندگی کی لمبائی دولت یا شہرت سے نہیں بڑھتی۔ عبدالستار ایدھی نے سادہ زندگی گزاری، مگر ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے اپنی مختصر زندگی کو خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ اسی لیے ان کی زندگی مختصر ہونے کے باوجود با معنی تھی۔ اصل فرق لمبائی میں نہیں، معنی میں ہے۔
رشتوں کی حقیقت
زندگی مختصر ہے، اس لیے رشتوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہم اکثر انا کی وجہ سے ناراض رہتے ہیں۔ سالوں تک بات نہیں کرتے۔ دل میں کینہ رکھتے ہیں۔ لیکن اگر زندگی چند ہی برسوں کی ہے تو کیا اتنی لمبی ناراضی مناسب ہے؟ کبھی سوچیں، اگر کل ہمیں خبر ملے کہ جس سے ہم ناراض ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا، تو کیا ہوگا؟
دل میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے گا۔ مختصر زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ معاف کر دینا بہتر ہے۔ محبت ظاہر کر دینا بہتر ہے۔ “میں تم سے محبت کرتا ہوں” یا “مجھے معاف کر دو” جیسے جملے کہنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
موت: ایک یقینی حقیقت
انسان موت سے ڈرتا ہے۔ لیکن موت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا لازمی حصہ ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے موت کا ذائقہ نہ چکھا ہو یا نہ چکھے گا۔ بادشاہ، امیر، غریب، عالم، جاہل — سب کو جانا ہے۔ یہی احساس انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں جانا ہے تو پھر غرور کس بات کا؟ نفرت کیوں؟ ظلم کیوں؟ مختصر زندگی کا شعور انسان کو نرم دل بناتا ہے۔
کامیابی کی دوڑ
آج کا انسان مسلسل دوڑ میں ہے۔ صبح سے شام تک کام، مقابلہ، دباؤ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم رک گئے تو پیچھے رہ جائیں گے۔ لیکن کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ آخر کس کے لیے دوڑ رہے ہیں؟ اگر صحت خراب ہو جائے، ذہنی سکون ختم ہو جائے، خاندان سے تعلق کمزور ہو جائے — تو کیا یہ کامیابی ہے؟ زندگی مختصر ہے، اس لیے اسے صرف کمائی میں نہ گزاریں۔ کچھ وقت اپنے لیے بھی رکھیں۔ کچھ وقت عبادت کے لیے۔ کچھ وقت خاموشی کے لیے۔
لمحوں کی خوبصورتی
زندگی کی خوبصورتی بڑے واقعات میں نہیں بلکہ چھوٹے لمحوں میں ہے۔ ایک کپ چائے کے ساتھ سکون کا لمحہ۔
بارش کی بوندوں کی آواز۔ کسی بچے کی ہنسی۔ یہی اصل زندگی ہے۔ ہم اکثر بڑے خوابوں کے انتظار میں چھوٹے خوشگوار لمحے کھو دیتے ہیں۔ لیکن مختصر زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر لمحے کو محسوس کریں۔
انسان کی اصل میراث
انسان اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جاتا نہ گھر، نہ زمین، نہ دولت۔ جو باقی رہتا ہے وہ کردار ہے۔ لوگ ہمیں ہمارے اخلاق سے یاد رکھتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ ان کی حیاتِ مبارکہ مختصر تھی مگر ان کا کردار آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔ اصل میراث وہ ہے جو دلوں میں رہ جائے۔
غلط فہمیوں میں ضائع عمر
ہم اکثر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ حسد کرتے ہیں۔ مقابلہ کرتے ہیں۔ پھر سالوں بعد پتا چلتا ہے کہ ہم نے اپنی ہی زندگی کا سکون کھو دیا۔ مختصر زندگی کو غلط فہمیوں کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ بات واضح کر لینی چاہیے۔ دل صاف رکھنا چاہیے۔
شکرگزاری کا سبق
زندگی مختصر ہے، مگر نعمتوں سے بھرپور ہے۔ ہم سانس لے رہے ہیں — یہ بھی نعمت ہے۔ آنکھیں دیکھ رہی ہیں — یہ بھی نعمت ہے۔ دل دھڑک رہا ہے — یہ بھی نعمت ہے۔ ہم اکثر بڑی چیزوں کے پیچھے چھوٹی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔ شکرگزاری زندگی کو لمبا تو نہیں کرتی، مگر اسے خوبصورت ضرور بنا دیتی ہے۔
آج کا دن ہی اصل ہے
ہم ماضی میں الجھے رہتے ہیں یا مستقبل کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف آج کا دن ہے۔ کل گزر چکا۔ کل آیا نہیں۔ آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔ مختصر زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ آج کو ضائع نہ کریں۔ آج محبت کریں۔ آج سیکھیں۔ آج معاف کریں۔ آج شکر ادا کریں۔
اختتامیہ: زندگی کا اصل مفہوم
انسانی زندگی مختصر ہے، مگر اس کی قدر بے حد ہے۔ یہ چند سالوں کا سفر ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ اصل چیز وقت ہے، محبت ہے، کردار ہے۔ ہم ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتے، مگر ہم ایسا کردار چھوڑ سکتے ہیں جو ہمیں زندہ رکھے۔ اگر ہم نے اپنی مختصر زندگی کو نفرت میں گزار دیا تو یہ سب سے بڑا نقصان ہوگا۔ اگر ہم نے اسے محبت، خدمت اور سچائی میں گزار دیا تو یہی ہماری کامیابی ہے۔ آخر میں صرف یہی کہنا کافی ہ :زندگی واقعی مختصر ہے۔اسے ضائع نہ کریں۔ اسے محسوس کریں۔ اسے سنواریں۔ اور اس کے ہر لمحے کو معنی دیں۔ کیونکہ شاید اگلا لمحہ ہمارا انتظار نہ کر رہا ہو۔


































