میری ویب سائٹ Good To Best پر خوش آمدید، جہاں ہم معاشرتی مسائل پر بات کرتے ہیں تاکہ ہماری سوچ میں مثبت تبدیلی آئے اور ہم بہتر سے بہترین کی طرف بڑھ سکیں۔
پاکستان میں شادی کو ایک مذہبی اور سماجی فریضہ سمجھا جاتا ہے، جو دو خاندانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شادی کی سادہ اور باوقار رسم آج نمود و نمائش، فضول خرچی، اور معاشرتی مقابلہ بازی کا شکار ہو چکی ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس وقت جس دکھاوے کی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے، وہ نہ صرف دینی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے ایک بوجھ بھی بن چکی ہے۔
آج ایک عام شادی میں لاکھوں روپے صرف کر دیے جاتے ہیں۔ قیمتی لباس، دلہن کا میک اپ، زیورات، شادی ہالز، مہمانوں کی فہرست، اور انواع و اقسام کے کھانے — سب کچھ صرف ایک دن کی نمائش کے لیے ہوتا ہے۔ ایسے اخراجات متوسط طبقے کے افراد کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوتے ہیں۔
فیس بک، انسٹاگرام، اور یوٹیوب پر دلہن کے فوٹو شوٹس، ویڈیوز اور تقریب کی جھلکیاں ڈالنا اب عام ہو چکا ہے۔ اس سے شادی اب ایک مذہبی فریضہ کے بجائے “پروجیکٹ” یا “شو” بن گئی ہے، جہاں ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی تقریب سب سے زیادہ متاثر کن ہو۔
اسلام ہمیں سادگی، کفایت شعاری اور بابرکت نکاح کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک بزرگ نے فرمایا:
“سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔”
آج کے دور میں سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق شادی کرنا نہ صرف آسان بلکہ معاشرتی فلاح کے لیے ضروری بھی ہے۔
اسلامی پہلو:
سادہ نکاح کی فضیلت
سنت کے مطابق شادی
اسلام میں فضول خرچی کی مذمت
دوسری بڑی برائی جو نمود و نمائش کا حصہ بن چکی ہے، وہ “جہیز” اور “قیمتی تحائف” کا کلچر ہے۔ لڑکی والوں سے قیمتی سامان اور اشیاء کی توقعات اکثر خاموش دباؤ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ دباؤ غریب والدین کو قرض لینے پر مجبور کر دیتا ہے، اور بعض اوقات بچیوں کی شادیوں میں تاخیر کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
یہ نمائش صرف مال و دولت تک محدود نہیں، بلکہ خاندانوں میں فاصلوں کا باعث بھی بن رہی ہے۔ کئی رشتے صرف اس لیے ختم ہو جاتے ہیں کہ فلاں تقریب میں فلاں نے کیا پہنا، کیا کھلایا، یا کیا دیا۔ دکھاوا اب رشتوں سے بڑھ کر اہمیت حاصل کر چکا ہے، جو کہ خطرناک علامت ہے۔
معاشرے کو اس روش سے واپس لانے کے لیے ہمیں خود سے ابتدا کرنی ہوگی۔ سادہ شادی نہ صرف دینی اعتبار سے بہتر ہے بلکہ معاشی اور معاشرتی طور پر بھی فائدہ مند ہے۔ سادہ شادیاں معاشرتی یکجہتی، مالی بچت، اور برکت کا ذریعہ بنتی ہیں۔
عملی اقدامات:
سادگی سے شادی کو سوشل میڈیا پر فروغ دینا
مذہبی اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم
ایسے خاندانوں کو سراہنا جو سادہ شادیاں کرتے ہیں
شادی بیاہ میں نمود و نمائش کا بڑھتا ہوا رجحان ہماری دینی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف فضول خرچی کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی ناہمواری، احساسِ محرومی اور مالی دباؤ کا باعث بھی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویوں پر غور کریں اور شادی کو اس کی اصل روح — سادگی، محبت، اور برکت — کے ساتھ منائیں۔
اس موضوع پر آپ کی رائے ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ براہ کرم نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنے خیالات ضرور شیئر کریں تاکہ ہم سب مل کر ایک مثبت معاشرتی تبدیلی کا حصہ بن سکیں۔