دفتر بظاہر ایک سادہ سی جگہ نظر آتی ہے جہاں لوگ صبح آتے ہیں، اپنی میز سنبھالتے ہیں، کمپیوٹر آن کرتے ہیں اور دن بھر اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، مگر جو لوگ برسوں اس ماحول میں سانس لیتے رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اصل کھیل فائلوں اور ای میلز سے کہیں آگے ہوتا ہے، یہاں لفظوں کا وزن، خاموشی کا وقت، چہرے کے تاثرات اور چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے فیصلوں پر اثر ڈالتی ہیں، یہی وہ پس منظر ہے جہاں دفتری سیاست جنم لیتی ہے، ایک ایسا گندا کھیل جو نہ کوئی کھل کر کھیلنے کا اعتراف کرتا ہے اور نہ ہی اس سے مکمل طور پر بچ پاتا ہے، یہ سیاست آہستہ آہستہ انسان کی سوچ میں اترتی ہے، اس کے رویے بدل دیتی ہے اور پھر ایک دن وہ خود کو اسی کھیل کا حصہ پاتا ہے جسے وہ کبھی برا کہتا تھا۔
دفتری سیاست کیا واقعی سیاست ہے
اکثر لوگ یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ سیاست تو صرف اسمبلیوں اور جلسوں میں ہوتی ہے، دفتر میں تو بس کام کا ماحول ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاست طاقت کے گرد گھومتی ہے اور جہاں طاقت ہو وہاں سیاست خود بخود پیدا ہو جاتی ہے، دفتر میں یہ طاقت عہدے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے، معلومات تک رسائی کی صورت میں بھی اور باس کی قربت کی شکل میں بھی، جیسے ہی چند لوگوں کے پاس یہ طاقت جمع ہوتی ہے، باقی لوگوں کے رویے بدلنے لگتے ہیں، کوئی خوشامد کی طرف جاتا ہے، کوئی خاموشی اختیار کرتا ہے اور کوئی پس پردہ چالیں چلنے لگتا ہے، یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں دفتر صرف کام کی جگہ نہیں رہتا بلکہ ایک نفسیاتی میدان بن جاتا ہے۔
خاموش مقابلہ جو روز کھیلا جاتا ہے
دفتر میں مقابلہ کبھی اعلان کے ساتھ شروع نہیں ہوتا، نہ کوئی میدان لگتا ہے اور نہ کوئی سیٹی بجتی ہے، یہ مقابلہ خاموشی سے شروع ہوتا ہے اور روزانہ کھیلا جاتا ہے، کون زیادہ نمایاں نظر آئے گا، کون باس کی نظر میں قابلِ اعتماد ٹھہرے گا، کون اپنی غلطی کو کامیابی کے طور پر پیش کرے گا اور کون دوسروں کی محنت کا کریڈٹ سمیٹ لے گا، یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ بظاہر ماحول پرسکون نظر آتا ہے مگر اندر ہی اندر ایک مسلسل کشمکش چل رہی ہوتی ہے جو انسان کو تھکا دیتی ہے۔
ٹانگ کھینچنا بطور ہتھیار
جب کھلے مقابلے میں جیتنا مشکل لگے تو ٹانگ کھینچنا سب سے آسان اور مؤثر ہتھیار بن جاتا ہے، کسی کی بات کو غلط مطلب دے دینا، کسی کے کام میں غیر ضروری خامیاں نکالنا، یا صحیح وقت پر غلط بات باس تک پہنچا دینا، یہ سب وہ حربے ہیں جو دفتری سیاست میں بڑے آرام سے استعمال ہوتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب اکثر مسکراہٹ کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ سامنے والا سمجھ ہی نہ پائے کہ وار کہاں سے آیا ہے۔
ترقی کسی کی، تکلیف سب کو
دفتر میں کسی ایک شخص کی ترقی بظاہر خوشی کا موقع ہونی چاہیے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے، مبارکباد کے جملوں کے پیچھے سوال، شکوک اور موازنہ چھپا ہوتا ہے، لوگ اپنی محنت، اپنے وقت اور اپنی قربانیوں کو تولنے لگتے ہیں اور یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر وہ آگے بڑھ سکتا ہے تو میں کیوں نہیں، یہی سوچ آہستہ آہستہ دل میں کڑواہٹ پیدا کرتی ہے جو تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔
تعریف کیوں چبھنے لگتی ہے
دفتر کا ماحول ایسا بن چکا ہے کہ تعریف بھی بعض لوگوں کو زخم کی طرح لگتی ہے، کسی میٹنگ میں اگر ایک شخص کے کام کو سراہا جائے تو چند چہرے فوراً بدل جاتے ہیں، کیونکہ یہ تعریف انہیں اپنا قد چھوٹا محسوس کراتی ہے، وہ اسے اپنی ناکامی کا اعلان سمجھتے ہیں اور اسی لیے اس تعریف کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی یہ کہہ کر کہ قسمت ساتھ تھی اور کبھی یہ کہہ کر کہ اصل کام کسی اور نے کیا تھا۔
حسد، خوف یا احساسِ کمتری
دفتری سیاست کی جڑ میں صرف حسد نہیں بلکہ خوف بھی گہرا کردار ادا کرتا ہے، یہ خوف کہ کہیں میں پیچھے نہ رہ جاؤں، کہیں میری ضرورت ختم نہ ہو جائے، کہیں میری جگہ کوئی اور نہ لے لے، جب یہ خوف حد سے بڑھ جاتا ہے تو انسان وہ سب کچھ کرنے لگتا ہے جسے وہ عام حالات میں غلط کہتا ہے، اور یوں وہ خود بھی اسی گندے کھیل کا حصہ بن جاتا ہے۔
کام کم، باتیں زیادہ
جہاں دفتری سیاست غالب آ جائے وہاں کام خود بخود پیچھے چلا جاتا ہے، فائلیں کم اور باتیں زیادہ ہونے لگتی ہیں، منصوبوں پر کم اور لوگوں پر زیادہ گفتگو ہوتی ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے اور اس کا خمیازہ آخرکار سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔
مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے خنجر
دفتری سیاست کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہاں دشمن سامنے نہیں ہوتا، سب مسکراتے ہوئے ملتے ہیں، حال احوال پوچھتے ہیں، مگر انہی مسکراہٹوں کے پیچھے ایسے جملے اور ایسی سوچ چھپی ہوتی ہے جو موقع ملتے ہی وار کر دیتی ہے، اور اکثر اس وار کا علم تب ہوتا ہے جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
باس کے قریب رہنے کا فن
کچھ لوگ کام سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ باس کے قریب کیسے رہا جائے، انہیں معلوم ہوتا ہے کب تعریف کرنی ہے، کب خاموش رہنا ہے اور کب کسی اور کی بات کو ہلکا کر کے پیش کرنا ہے، یہ فن بعض اوقات سالوں کی محنت پر بھاری پڑ جاتا ہے اور یہی بات باقی لوگوں کے دل میں تلخی پیدا کرتی ہے۔
اصول صرف کمزور کے لیے
دفتری سیاست کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ اصول اکثر کمزور کے لیے ہوتے ہیں، طاقتور کے لیے راستے خود بخود بن جاتے ہیں، یہی دوہرا معیار لوگوں کے دل سے نظام پر اعتماد ختم کر دیتا ہے اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔
دفتر سے گھر تک پھیلتی تلخی
یہ سیاست دفتر کی دیواروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسان کے لہجے کے ساتھ گھر تک چلی جاتی ہے، وہی غصہ، وہی جھنجھلاہٹ اور وہی بے چینی، جو گھر کے ماحول اور رشتوں کو متاثر کرتی ہے اور انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔
خاموش رہنے والے کیوں ہار جاتے ہیں
جو لوگ خود کو دفتری سیاست سے الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اکثر خاموشی اختیار کرتے ہیں، مگر یہ خاموشی انہیں محفوظ نہیں رکھتی بلکہ آہستہ آہستہ انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور یوں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں حالانکہ ان کی نیت صاف ہوتی ہے۔
ایمانداری اس کھیل میں کہاں کھڑی ہے
ایمانداری اس ماحول میں سب سے زیادہ آزمائش میں ہوتی ہے، کیونکہ یہاں سچ بولنا اور سیدھا رہنا اکثر نقصان کا سبب بن جاتا ہے، مگر یہی رویہ انسان کو اندر سے مضبوط بھی رکھتا ہے اور اسے خود سے نظریں ملانے کے قابل بناتا ہے۔
سب سمجھتے ہیں مگر بولتا کوئی نہیں
تقریباً ہر شخص جانتا ہے کہ دفتر میں کیا ہو رہا ہے، کون کس کھیل کا حصہ ہے اور کون کس حد تک جا سکتا ہے، مگر بولنے کی ہمت کم ہی کوئی کرتا ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنی جگہ اور روزگار کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
اس کھیل کا انجام
دفتری سیاست کا انجام اکثر اچھا نہیں ہوتا، یا تو اچھے لوگ دل برداشتہ ہو کر ادارہ چھوڑ دیتے ہیں یا پھر پورا ماحول اس قدر زہریلا ہو جاتا ہے کہ کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے، دونوں صورتوں میں نقصان ادارے ہی کا ہوتا ہے۔
کیا اس گندے کھیل سے بچا جا سکتا ہے
اس کھیل سے مکمل طور پر بچنا شاید ممکن نہ ہو، مگر خود کو اس کا ایندھن بننے سے ضرور بچایا جا سکتا ہے، اگر انسان اپنی حدود واضح رکھے، غیر ضروری باتوں سے دور رہے اور اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھے تو یئہ چیز خودبخود ختم ہوجائے۔
خود احتسابی یا خود فریبی
ہر شخص کو وقتاً فوقتاً خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے، کیا وہ صرف حالات کا شکار ہے یا خود بھی اس کھیل کو زندہ رکھے ہوئے ہے، یہی سوال انسان کو حقیقت کے قریب لے جاتا ہے۔
ہم سب اس کا حصہ کیوں ہیں
شاید اس لیے کہ ہم نے دفتری سیاست کو معمول سمجھ لیا ہے، اور جو چیز معمول بن جائے وہ آہستہ آہستہ غلط بھی صحیح لگنے لگتی ہے، یہی سوچ اس کھیل کو طاقت دیتی ہے۔
آخری بات
دفتری سیاست کوئی الگ وجود نہیں بلکہ ہمارے رویوں کا عکس ہے، اگر ہم اپنے رویے بدلنے کی ہمت کریں، سچائی کو تھامے رکھیں اور بلاوجہ کسی کو نیچا دکھانے سے باز رہیں تو شاید یہ گندا کھیل کمزور پڑ جائے، ورنہ سب کھیلتے رہیں گے اور مانتا پھر بھی کوئی نہیں۔































