بڑوں کا احترام آخر گیا کہاں؟

ہماری گلیوں میں ادب کیوں کم ہوتا جا رہا ہے؟

بچپن میں ہم نے دیکھا تھا کہ جیسے ہی کوئی بزرگ گلی میں نظر آتا، بچے آوازیں ہلکی کر لیتے، کھیل روک دیتے اور راستہ چھوڑ دیتے۔ مگر آج گلیوں میں ماحول بدل گیا ہے۔ اب بچے اور نوجوان اسی شور میں، اسی انداز میں اپنی سرگرمی جاری رکھتے ہیں جیسے سامنے کوئی عام شخص گزر رہا ہو۔ نہ وہ احترام، نہ وہ خاموشی، نہ وہ احساس کہ سامنے کوئی عمر اور تجربے میں بڑا انسان ہے۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آئی، مگر اب پورا معاشرہ اسے معمول کے طور پر قبول کر چکا ہے۔

 

نوجوان نسل کا بدلتا ہوا رویہ

نوجوان آج کل موبائل فون، تیز رفتار لائف اسٹائل اور خودمختاری کے احساس میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ انہیں اندازہ ہی نہیں رہتا کہ احترام کیا ہوتا ہے اور کب دکھانا چاہیے۔ کسی بزرگ کی بات سننا انہیں پابندی لگتی ہے، مشورہ سننا پرانی سوچ، اور تنبیہ سننا مداخلت محسوس ہوتی ہے۔ اس رویے نے معاشرے میں وہ خلا پیدا کر دیا ہے جہاں ادب کی جگہ بے نیازی اور بدلحاظی نے لے لی ہے۔

 

گھر کا ماحول اور تربیت کی کمزوری

گھر وہ پہلی جگہ ہے جہاں بچے سیکھتے ہیں کہ بڑوں سے کس طرح پیش آنا ہے۔ لیکن آج گھروں میں ہی اکثر بچے یہ دیکھتے ہیں کہ والدین اپنے والدین سے سخت لہجے میں بات کرتے ہیں، بزرگوں کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے، یا ان کی موجودگی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جب بچے یہی دیکھتے ہیں تو یہی سیکھتے ہیں۔ اس طرح عزت کا تصور خود ہی کمزور ہو جاتا ہے۔

 

سوشل میڈیا نے احترام کو کیسے متاثر کیا؟

سوشل میڈیا نے لوگوں میں بے صبری، عجیب خود اعتمادی اور جملوں کی سختی پیدا کر دی ہے۔ نوجوان ہر بات فوری اور بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں۔ میمز، طنز اور کلپس کے ذریعے بڑوں کی بات کو مذاق بنا دینا معمول بن چکا ہے۔ جب غیر سنجیدگی کو شاباش اور لائکس ملتے ہیں تو نئی نسل سوچتی ہے کہ یہی درست طریقہ ہے۔ احترام اپنی جگہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

 

بڑوں کی بات کو پرانی سوچ سمجھنے کا رواج

آج کا نوجوان سمجھتا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ نے اسے سب کچھ سکھا دیا ہے۔ اسی لیے وہ سمجھتا ہے کہ بزرگ جو کہہ رہے ہیں، وہ پرانا ہے، غلط ہے، یا وقت کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تجربہ وہ دولت ہے جو کسی سرچ رزلٹ میں نہیں ملتی۔ مگر جب نوجوان اس فرق کو سمجھ ہی نہ پائے تو احترام خود بخود ختم ہونے لگتا ہے۔

 

ادب کم ہونے کے معاشرتی نقصانات

جب بڑوں کی عزت کم ہو جائے تو معاشرے میں افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ بچے حد سے نکل جاتے ہیں، نوجوان خودغرض ہو جاتے ہیں، خاندان مضبوط نہیں رہتے، اور لوگ اخلاقیات کو اپنی سہولت کے مطابق بدل لیتے ہیں۔ جن گھروں میں بزرگوں کی عزت نہ رہے، وہاں آنے والی نسلیں بھی احترام کے بغیر پروان چڑھتی ہیں، اور یہ خاموش تباہی معاشرتی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔

 

ہم مستقبل کی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں؟

ہم جو کچھ اپنے بچوں کے سامنے کرتے ہیں، وہی کل کو وہ ہمارے ساتھ کریں گے۔ اگر ہم اپنے والدین کی قدر نہیں کریں گے تو بچے ہمیں بھی اسی نظر سے دیکھیں گے۔ یہ ایک دائرہ ہے جو چلتا رہتا ہے۔ جب عزت گھروں سے نکل جائے تو معاشرے سے اس کا ختم ہونا فطری بات ہے۔

 

عزت واپس لانے کی ضرورت

احترام کوئی پرانی چیز نہیں، یہ انسانیت کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ اگر ہمیں اپنے بچوں میں اخلاق، وقار اور انسانیت زندہ رکھنی ہے تو سب سے پہلے اپنے گھروں میں بڑوں کی عزت کو دوبارہ طاقت دینی ہوگی۔ ادب کوئی بوجھ نہیں، یہ ایک خوبصورتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمیں باقی دنیا سے مختلف بناتی ہے۔ اگر ہم آج اس کو نہیں سنبھالیں گے تو کل بہت کچھ کھو بیٹھیں گے۔ ایک بات اور کہنی چاہوں گا کہ اگر کسی کو کسی بات پر ڈانٹنا پڑے تو علیہدگی میں ڈانٹیں اس سے اگلے کو اپنی بعزتی بھی محسوس نہ ہو اور بات بھی سمجھ میں آجائے۔ بس اتنی سی بات ہے۔

 

آخر میں، آپ ضرور بتائیں کہ آپ کی نظر میں ہمارے معاشرے میں بڑوں کی عزت کم ہونے کی اصل وجہ کیا ہے؟ نیچے کمنٹ میں اپنی رائے لکھیں، میں واقعی جاننا چاہتا ہوں کہ آپ اس مسئلے کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

Services

© 2024 Created by GoodToBest