اپنے آپ کو پہچانو

تم اصل میں کون ہو؟

کبھی خاموشی میں بیٹھ کر اپنے آپ سے پوچھا ہے: میں کون ہوں؟ نام نہیں۔ پیشہ نہیں۔ خاندان کا تعارف نہیں۔ اصل میں میں کون ہوں؟ وہ انسان جو دوسروں کے سامنے نظر آتا ہے یا وہ جو تنہائی میں جاگتا رہتا ہے؟ یہ سوال سادہ لگتا ہے مگر اس کا جواب انسان ساری زندگی تلاش کرتا رہتا ہے۔ ہم صبح سے شام تک کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ کسی کے بیٹے، کسی کے باپ، کسی کے دوست، کسی کے ملازم۔ مگر ان سب کرداروں کے پیچھے جو اصل وجود ہے، کیا ہم اسے جانتے ہیں؟ اپنے آپ کو پہچانو

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم زندگی گزار رہے ہوتے ہیں مگر خود نہیں جی رہے ہوتے۔ ہم مصروف ضرور ہوتے ہیں مگر مطمئن نہیں۔ ہم کامیاب نظر آتے ہیں مگر اندر سے خالی ہوتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم نے دنیا کو تو پہچان لیا، مگر خود کو نہیں پہچانا۔

دوسروں کی مرضی، ہماری زندگی

بچپن سے ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کیا بننا ہے۔ ڈاکٹر بنو، انجینئر بنو، کاروباری بنو، کامیاب بنو۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ تم کیا بننا چاہتے ہو؟ تمہارا دل کس طرف مائل ہے؟ ہم آہستہ آہستہ دوسروں کی خواہشوں کو اپنی تقدیر سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر ایک دن اچانک محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہ راستہ چل رہے ہیں جو ہمارا تھا ہی نہیں۔

ایک نوجوان تھا جس نے والدین کی خواہش پر ایک ایسا شعبہ اختیار کیا جو اسے پسند نہیں تھا۔ وہ کامیاب بھی ہوا، اچھی تنخواہ بھی ملی، مگر ہر شام اسے لگتا جیسے اس کی روح تھک گئی ہے۔ آخر ایک دن اس نے خود سے پوچھا: کیا میں یہ زندگی صرف دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے جی رہا ہوں؟ یہی سوال اس کی بیداری کی شروعات تھا۔

ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کی خوشی کے لیے خود کو بھلا دیتے ہیں؟ اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا؟

آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتا

ہم روز آئینہ دیکھتے ہیں، مگر صرف ظاہری شکل پر نظر جاتی ہے۔ کیا کبھی ہم نے اپنی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا کہ وہاں کیا ہے؟ وہاں خواب ہیں یا مایوسی؟ وہاں امید ہے یا تھکن؟ آئینہ ہمیں سچ بتا سکتا ہے اگر ہم سننے کو تیار ہوں۔

ایک لمحہ تصور کریں کہ آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہیں اور خود سے پوچھتے ہیں: کیا میں خوش ہوں؟ اگر جواب فوری نہ آئے تو سمجھ لیجیے کہ اندر کہیں الجھن ہے۔ خود کو پہچاننے کی پہلی سیڑھی یہی ہے کہ ہم خود سے سچ بولنے کی ہمت پیدا کریں۔

اپنی کمزوریوں کو قبول کرنا

ہم سب چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں مضبوط سمجھیں۔ ہم اپنی کمزوریوں کو چھپاتے ہیں۔ ہم اپنے آنسو چھپاتے ہیں، اپنے خوف چھپاتے ہیں، اپنی ناکامیاں چھپاتے ہیں۔ مگر کیا کبھی سوچا ہے کہ شاید یہی چیزیں ہماری اصل پہچان کا حصہ ہیں؟

اگر آپ جلد جذباتی ہو جاتے ہیں تو یہ کمزوری نہیں، یہ آپ کا زندہ دل ہونا ہے۔ اگر آپ غلطی کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کوشش کر رہے ہیں۔ خود کو پہچاننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف اپنی خوبیوں کی فہرست بنائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی خامیوں کو بھی سمجھیں اور انہیں بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

خوشی کی اپنی تعریف تلاش کرو

دنیا کہتی ہے کامیابی بڑی گاڑی، بڑا گھر اور بڑا نام ہے۔ مگر کیا یہی سب کچھ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ہر امیر انسان خوش ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کی خوشی کا معیار مختلف ہوتا ہے۔

ایک مزدور جو دن بھر محنت کرتا ہے، شام کو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سادہ کھانا کھاتا ہے اور سکون سے سو جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک شخص ہے جس کے پاس سب کچھ ہے مگر نیند نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اصل کامیاب کون ہے؟ وہ جو دنیا کو خوش نظر آتا ہے یا وہ جو دل سے مطمئن ہے؟

اپنے آپ کو پہچاننے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو خوشی کس چیز سے ملتی ہے۔ دوسروں کی تعریف سے یا اپنے دل کی تسکین سے؟

خوف کا جال

خوف ہماری پہچان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے سچ بول دیا تو لوگ ناراض ہو جائیں گے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے راستہ بدلا تو ناکام ہو جائیں گے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی اصل شخصیت ظاہر کی تو ہمیں قبول نہیں کیا جائے گا۔

یہی خوف ہمیں ایک محفوظ مگر جھوٹی زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم وہی بن جاتے ہیں جو معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر دل کے اندر ایک خلا رہ جاتا ہے۔ یاد رکھیں، خوف وقتی سکون دیتا ہے، مگر سچ مستقل سکون دیتا ہے۔

تنہائی کا تحفہ

ہم تنہائی سے بھاگتے ہیں کیونکہ تنہائی میں ہمیں خود سے ملنا پڑتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تنہائی دشمن نہیں، استاد ہے۔ جب آپ اکیلے ہوتے ہیں تو آپ کے پاس سوچنے کا وقت ہوتا ہے۔ آپ اپنے فیصلوں پر غور کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے دل کی بات سن سکتے ہیں۔

کبھی موبائل بند کر کے، شور سے دور بیٹھ کر اپنے آپ سے بات کریں۔ شاید آپ کو اپنے اندر وہ جواب مل جائے جسے آپ برسوں سے باہر تلاش کر رہے ہیں۔

ماضی کی زنجیریں توڑنا

کئی بار ہم اپنے ماضی کی غلطیوں کو اپنی پہچان بنا لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: میں ناکام ہوں، میں کمزور ہوں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔ مگر کیا ایک غلطی پوری زندگی کی تعریف بن سکتی ہے؟

ایک شخص کاروبار میں ناکام ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ مگر اس نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور دوبارہ کوشش کی۔ چند سال بعد وہی لوگ اس کی تعریف کر رہے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس نے اپنے ماضی کو اپنی تقدیر نہیں بننے دیا۔

اپنے آپ کو پہچاننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ اپنی غلطیوں کو قبول کریں مگر ان میں قید نہ ہو جائیں۔

اپنی کہانی خود لکھو

زندگی ایک کتاب ہے۔ کچھ صفحات حالات لکھتے ہیں، مگر کئی صفحات ہم خود لکھتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی آپ کی مرضی کے مطابق نہیں، تو آج سے نیا باب شروع کریں۔ خود کو پہچاننا ایک سفر ہے، منزل نہیں۔

آپ آج فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ خوف کے ساتھ نہیں بلکہ سچ کے ساتھ جئیں گے۔ آپ آج فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنی خوشی کو ترجیح دیں گے۔ یہ آسان نہیں ہوگا، مگر ممکن ضرور ہے۔

اصل پہچان کیا ہے؟

اگر آپ سے آپ کا عہدہ لے لیا جائے تو کیا بچے گا؟ اگر آپ کا نام مشہور نہ رہے تو کیا آپ کی اہمیت ختم ہو جائے گی؟ اصل پہچان وہ ہے جو حالات بدلنے سے نہیں بدلتی۔ وہ آپ کا کردار ہے، آپ کی نیت ہے، آپ کا دل ہے۔

دنیا کی رائے بدلتی رہتی ہے، مگر آپ کا باطن اگر مضبوط ہو تو آپ کبھی مکمل طور پر نہیں ٹوٹتے۔ خود کو پہچان لینا سب سے بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس کے بعد انسان کو دوسروں کی منظوری کی ضرورت کم پڑ جاتی ہے۔

آخری سوچ

اپنے آپ کو پہچانو۔ اپنے اندر جھانکو۔ اپنے خوف کو پہچانو۔ اپنی خوشی کو تلاش کرو۔ اپنی کمزوریوں کو قبول کرو۔ کیونکہ جب آپ خود کو جان لیتے ہیں تو زندگی کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ فیصلے آسان ہو جاتے ہیں۔ راستے واضح ہو جاتے ہیں۔

دنیا کو جیتنے سے پہلے خود کو جیتنا ضروری ہے۔ اور جو انسان خود کو جیت لیتا ہے، وہ کبھی حقیقی معنوں میں ہارتا نہیں۔

1 Comment

  • faizabashir@gmail.com

    Very positive one. We allmust act accordingly.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Recent Posts

  • All Post
  • Blog
  • Food
  • General Knowledge
  • History
  • Lifestyle
  • Quotes
  • Technology
  • Travel
  • اردو بلاگ

Features

Services

© 2024 Created by GoodToBest